حیدرآباد کی معیشت کو سمجھناچاہتا ھوں کہ کن شعبوں میں سرمایا کاری کی جاسکے برٹش ہائی کمیشن
حیدرآباد(گردو پیش) برٹش ہائی کمیشن اسلام آباد کے سینئر اکانومک ایڈوائزر لوئی ڈین نے کہا کہ ان کے دوروزہ دورے کا مقصد حیدرآباد کی معیشت کو سمجھنا، مقامی کاروباری برادری سے براہِ راست رائے لینا، اور اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کن شعبوں میں مزید سرمایہ کاری، تربیت، ٹیکنالوجی اور پالیسی سپورٹ کی ضرورت ہے تاکہ مقامی صنعتیں ترقی کر سکیں اور عالمی منڈیوں میں اپنا مؤثر مقام بنا سکیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے پلیٹ فارم پر تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کی معاشی ترقی اور کامیابی کے لیے پرعزم ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی سلسلے میں گزشتہ سالPakistan-UK Trade Dialogue کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد تجارت میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنا اور دوطرفہ کاروباری مواقع کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ پالیسی سطح پر بھی پاکستان کی معاونت کر رہا ہے، جس میں وفاقی و صوبائی اداروں کی استعداد کار میں بہتری، کاروباری ماحول کو آسان بنانا، اور تجارت کو سہل بنانے کے اقدامات شامل ہیں. مسٹر لوئی ڈین نے اپنے خطاب میں کہا کہJobs and Economic Transformation Programme Pakistan (JETPAK) دراصل برطانیہ کے ادارہ Development office Foreign, Commonwealth & کے تعاون سے جاری ایک جامع اور کثیر سالہ (Multi-year) پروگرام ہے، جو مرحلہ وار انداز میں پاکستان میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نجی شعبے کو مضبوط بنا کر پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے انہوں نے حیدرآباد چیمبرکے پرتپاک استقبال پراور دو دن ان کی معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کچھ مہینوں میں جیسے ہی یہ پروگرام فائنل مراحل میں داخل ہوگا۔ حیدرآباد چیمبر کی جانب سے دی گئی سفارشات کو ضرور شامل کیا جائے گا اور حیدرآباد کی سطح پر چیمبر کے ساتھ مل کر اس پروگرام کو آگے بڑھایا جائے گا۔ اس سے قبل صدرچیمبر سلیم میمن نے اپنے خطاب میں معزز وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ چیمبر حیدرآباد کی کاروباری برادری کا ایک مؤثر نمائندہ ادارہ ہے جو ٹیکسز، توانائی بحران، انفراسٹرکچر اور تجارتی رکاوٹوں جیسے اہم مسائل کے حل کے لیے حکومتی اداروں سے مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔ انہوں نےJETPAK کو ایک بروقت اور اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، برآمدات میں اضافے اور نجی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی کے تناظر میں ایسے اقدامات معیشت کو مضبوط بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ محمد سلیم میمن نے اس بات پر زور دیا کہ حیدرآباد میں ٹیکسٹائل، چوڑیوں کی صنعت، ہینڈی کرافٹس، زرعی تجارت اور چھوٹی صنعتوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جو مناسب سہولیات اور تعاون سے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد چیمبرکی اس پروگرام کے لیے ہر ممکن تعاون کا بھی یقین دلایا۔اس موقع پرسرپرست اعلی سیٹھ امین کھتری، سینئر نائب صدراحمد ادریس چوہان، سابق صدور اکرم انصاری، سلیم الدین قریشی، فاروق شیخانی، ممبر ایگزیکیٹو کمیٹی چوہدری محمد اسلم، اقبال موٹلانی، سینئر ممبرز عارف میمن، ڈاکٹر محمد اسماعیل نامی و دیگر نے اس پروگرام کے حوالے سے سوالات کیے۔ اس موقع پر تاجروں و صنعتکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ برٹش ہائی کمیشن اسلام آبادکے وفد میں پرائیویٹ اکانومک ایڈوائزر، صبیحہ احمد بھی شامل تھی اس وفد نے 22 اور 23اپریل کے دورے میں نا صرف چیمبر کے ساتھ بزنس میٹنگ کی بلکہ حیدرآباد سائٹ میں مختلف فیکٹریوں کا دورہ کیا اس کے ساتھ انہوں نے حیدرآباد میں موجود ثقافتی عمارات کا دورہ بھی کیا اور اس پورے دورے کو آرگنائز کرنے پر حیدرآباد چیمبرکا شکریہ ادا کیا کیا،
