Uncategorized کالم

تحریر کنزہ اعجاز جدید انسان بھیڑ میں ایک تنہا زات

حیدرآباد(گردو پیش)جدید انسان، بھیڑ میں کھڑی ایک تنہازات۔

دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت
درد سے بھر نہ آئے کیوں

انسان اور تنہائی کا رشتہ بہت پرانا ہے مگر آ ج کے دور میں یہ احساس پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے اس شعر میں فیض نے انسان کی باطنی کمزوری اور تنہائی کے خوف کو چند سطروں میں بیان کیا ہے۔ انسان کا دل بہت نازک ہے اور یہی نازکی اسے تنہائی میں سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے آج کا انسان باہر سے مضبوط اور پر اعتماد نظر آتا ہے مگر اندر سے اپنی ہی سوچوں سے ڈرتا ہے آج کا انسان بظاہر پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ با اختیار اور سہولیات سے بھرپور زندگی گزار رہا ہے لیکن پھر بھی اس کے دل کے اندر تنہائی کا ایک ایسا خلا بڑھتا جا رہا ہے جسے وہ نہ الفاظ میں بیان کر پاتا ہے اور نہ کسی کے سامنے پوری طرح کھول پاتا ہے جدید زندگی کے چکا چوند نے انسان کو آسائشیں تو دے دی ہیں مگر ان آسائشوں نے اس کے اندر کی خاموشیوں کو گہرا کر دیا ہے گھروں میں روشنی ہے مگر دلوں میں اندھیرے گھومتے پھرتے ہیں اور انہی اندھیروں نے انسان کو اپنی ہی ذات کا اجنبی بنا دیا ہے تنہائی صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی ذہنی اور روحانی بھی ہے انسان چاہے سماجی میل جول میں شامل ہو یا ہر وقت سرگرمیوں میں مصروف رہے پھر بھی وہ اپنے اندر اپنے اندرونی احساسات اور جذبات سے الگ اور اکیلا رہتا ہے اور یہی موضوع آج کے ادب اور معاشرت میں بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ انسان کے اندرونی وجود اس کی فکر اور اس کے رویے کو ظاہر کرتا ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں ٹیکنالوجی نے انسان کو دنیا سے جوڑنے کا دعویٰ تو ضرور کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی نے اسے اپنے ارد گرد کے لوگوں اور پیاروں سے دور کر دیا اور سوشل میڈیا کی اسکرینوں کے ساتھ تعلق قائم کر دیا ہے۔ مگر دلوں کے درمیان قائم ہونے والے وہ رشتے جن میں احساس قربت اور گفتگو کی گرمی شامل ہوتی تھی آہستہ آہستہ مٹی تلے دفن ہو گئے۔ آج لوگ سینکڑوں دوست تو رکھتے ہیں مگر ایک ایسا شخص ڈھونڈنے سے قاصر رہتے ہیں جس کے سامنے وہ حقیقی کھل کر بیان کر سکیں۔اور تنہائی کا احساس محض جسمانی اکیلا پن نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی خالی پن بھی ہوتا ہے۔ انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہمیشہ سے تعلق توجہ اور محبت رہی ہے اس توجہ اور محبت کا نہ ملنا انسان کے رویے میں چڑچڑا پن جو نفرت کا باعث بنتا جا رہا ہے لیکن آج کی تیز رفتار زندگی میں وقت سب سے زیادہ قیمتی شے بن چکا ہے اور ہر شخص اپنے دن رات کی بھاگ دوڑ میں اتنا مصروف ہے کہ دوسرے کی بات سننے ،سمجھنے اور کسی کے دل کی تکلیف محسوس کرنے کا حوصلہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنے ہی جذبات کے بوجھ تلے دب کر اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتا ہے۔
بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ کی مثال بھی اس حقیقت کی بہترین عکاسی کرتا ہے جہاں کردار اپنے اخلاق، جذبات اور معاشرتی رویوں کی کشمکش میں خود کو تنہا محسوس کرتا ہے ۔اس ناول میں سیمی شاہ کا کردار یہ واضح کرتا ہے کہ معاشرتی تعلقات کے باوجود انسان خود کو الگ خالی محسوس کرتا ہے تنہائی انسان کی سوچ رویوں اور فیصلوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ تنہائی انسان کو اپنے اخلاق کی فیصلوں اور شخصیت پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔اس ناول سے یہ ثابت ہوتا ہے اگر انسان اپنی داخلی زندگی کی قدر نہیں کرتا تو بیرونی زندگی اور کامیابی اس کے لیے خوشی اور سکون نہیں لا سکتی اس ناول کا حوالہ دینے کا مطلب صرف حقیقی زندگی سے آگاہ کرنا تھا کے محض یہ دنیا وقتی اور عارضی ہی صحیح مگر گزارنے کے لیے نہیں بلکہ جینے کے لیے دی گئی ہے بانو قدسیہ نے اپنے ناول راجہ گدھ میں اسے نہایت دلکش گہرائی اور انسانی نفسیات کے ساتھ پیش کیا ہے جو آج کے ہر انسان کے لیے ایک پراثر پیغام ہے۔مزید یہ کہ معاشرتی توقعات کا دباؤ کامیابی کی دوڑ اور خود کو مکمل ثابت کرنے کی کوشش نے انسان کے ذہن کو تھکا دیا ہے ہر کوئی شخص مکمل ،خوش اور کامیاب دکھنے کی جدوجہد میں لگا ہوا ہے لیکن اندرونی طور پر ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی خوف بے چینی یا محرومی سے لڑ رہا ہوتا ہے اس جدوجہد نے انسان کو تنہا کر دیا کیونکہ وہ اپنے کمزور لمحوں کو کسی کے ساتھ بانٹنے سے گھبراتا ہے کمزوری چھپانے کی اس خواہش نے انسان کے اندرونی سکون کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
جیسا کہ پہلے پیراگراف میں یہ بات واضح طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ تنہائی صرف ذہنی یا جسمانی نہیں ہوتی بلکہ وجودی بھی ہوتی ہے اور اس بات کی واضح حقیقت اس ناول میں موجود مرکزی کردار ثابت کر رہے ہیں آفتاب محبت کے باوجود دوست فیصلے نہیں کر پاتا جو کہ ایک حقیقی مثال ہے سیمی شاہ آزادی کے باوجود سکون حاصل نہیں کر پاتی یعنی سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انسان کسی نہ کسی محرومی کا شکار رہتا ہے اور قیوم سمجھنے کے بعد کچھ نہیں پاتا۔یہ انتخاب وقتی سہولت دیتے ہیں، مگر ان کے نتیجے میں کردار اندر سے تنہا ہو جاتے ہیں۔ یہی وجودی تنہائی ہے — جب انسان خود اپنے فیصلوں کے بوجھ تلے اکیلا رہ جاتا ہے۔
راجا گدھ یہ ثابت کرتا ہے کہ وجودی تنہائی انسان پر باہر سے مسلط نہیں ہوتی, یہ انسان کے اپنے ہی غلط یا کمزور انتخاب کا نتیجہ ہوتی ہے۔
یہ ناول ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ آزادی بغیر ذمہ داری کے خلا ہے۔خواہش بغیر اخلاق کے تنہائی ہے اور زندگی بغیر معنی کے صرف وجود ہے، سکون نہیں۔
اسی ہی موضوع سے متعلق انگریزی ادب میں ایک مشہور ناول لکھا گیا نوٹس فرام انڈر گراؤنڈ بائے فیودر دوستوئیفسکی کا یہ ناول دنیا کا پہلا ایگزسٹنشیلسٹ مانا جاتا ہے۔ یہ ناول بھی مکمل طور پر انسان کی اندرونی تنہائی ،خود کلامی، نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ اور دنیا سے نفرت پر مبنی ہے. جس کا مرکزی کردار بھی ایک نامعلوم شخص جسے انڈر گراؤنڈ مین کہتے ہیں جس کی عمر 40 سال ہے جو بہت زیادہ سوچ رکھنے والا دنیا سے نفرت کرنے والا جو خود ہی اپنی ذات کے اندر قید رہتا ہے سماج سے الگ تھلگ اور شدید تنہائی کا مریض ہے۔

اس ناول کا موضوع کردار کی اپنی ہی آواز ہے جو خود اپنے ہی آپ کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ بدتمیز ہے وہ حسد کرتا ہے دوسروں سے نفرت کرتا ہے مگر پھر بھی چاہتا ہے کہ لوگ اس سے محبت کریں اس کو پسند کریں وہ تنہائی میں رہتا ہے مگر تنہائی سے بھی نفرت کرتا ہے کچھ کرنا چاہتا ہے مگر خود ہی سب برباد کر دیتا ہے یہ سب باتیں انسان کے خود سے جنگ کی علامت ہے جو دنیا سے الگ ہونا چاہتا ہے مگر اس کے اندر ایک چھوٹی سی چیخ ہے جو کہتی ہے کہ مجھے کوئی سمجھ لے۔ یہی فقرہ انسانی تنہائی کا سب سے گہرا پہلو ہے اس ناول کے دوسرے پہلو کا ذکر بھی کیا گیا ہے جسے (Apropos of the wet snow کہا گیا ہے جس کے اندر کچھ حقیقی واقعات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ایک انسان لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے لیکن ان کی موجودگی اسے الجھا دیتی ہے وہ لوگوں سے نفرت بھی کرتا ہے انہیں چاہتا بھی ہے یہ پیراڈوکس انسان کے اندر کی تنہائی کا اصل روپ ہے اس ہی سے متعلق ایک اہم بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ انسان اپنی انا اور حسد کی وجہ سب برباد کر دیتا ہے وہ محفلوں میں بھی خود کو غیر اہم اور حکیم محسوس کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ ان سب چیز سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ نفسیاتی تنہائی کی انتہا ہے اس ناول کے ایک ادیب کا ما ننا یہ ہے کہ انسان کو آزادی چاہیے خواہ وہ آزادی اسے نقصان ہی کیوں نہ دے عام طور پر انسان خود ہی جان بوجھ کر ایسی حرکتیں کرتا ہے جو اس کی ذات کو مزید تکلیف دیں کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ تکلیف ہی اس کی سچائی ہے اس کا منفی سوچنا اس ہی کی اپنی ذات کو تباہ کر دیتا ہے ایسے انسان ذہنی سوچ پر تھکا ہوا ہے جذباتی طور پر زخمی ہے اور سماجی طور پر تنہا ہے اور روحانی طور پر بکھرا ہوا ہے۔ اس عمل کا اخلاقی سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ انسان اپنی ہی تنہائی خود پیدا کرتا ہے اور اسے خود ہی بڑھاوا دیتا ہے اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان اپنا ہی دشمن خود ہوتا ہے دوسروں کو دھتکارنے سے پہلے خود کو سمجھنا ضروری ہے دوسروں سے نفرت کرنے کا مطلب اپنے آپ سے ہی نفرت کرنا ہے دوسروں میں خامیاں تلاش کرنے کا مطلب اپنے آپ ہی میں خامیاں تلاش کرنا ہے ۔محبت ہمدردی تعلق اور قریبی رشتے انسان کی ضرورت ہیں اسے ٹھکرانا اور نظر انداز کرنا نقصان دہ اور کبھی کبھی بے معنی ہوتا ہے۔ بہت زیادہ منفی سوچ معاشرے سے کاٹ دیتی ہے جس سے میں وہ معاشرت سے نہیں اپنے آپ سے ہی بھاگ رہا ہوتا ہے۔

اختتامیہ :

آخر میں تنہائی کا بڑھتا ہوا احساس ہمیں ایک حقیقت کی طرف اشارہ دلاتا ہے کہ زندگی کی اصل خوشی تعلقات میں ہے نہ کہ آسائشوں میں انسان کو دوبارہ گفتگو ہمدردی برداشت اور ایک دوسرے کے بات سننے کی روایت کو زندہ کرنا ہوگا رشتوں میں گرمی اور گفتگو کی تازگی واپس لانا ہوگی تاکہ دلوں میں بنے خلا بھر سکے شاید ایسا کرنے سے انسان خود کو بھی پھر سے وہی بناتا ہوا محسوس کرے جو کبھی دوسروں کے دلوں میں جینے کی طاقت رکھتا تھا۔

girdopesh

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

Uncategorized

پاک فوج کا سارے سیاسی معاملے سے کوئی تعلق نہیں، فواد چوہدری

 اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاک فوج کا سارے سیاسی معاملے سے کوئی تعلق نہیں، جب
Uncategorized

پاکستان تحریک انصاف ضلع حیدرآباد کے رہنما عمران قریشی نے عدم اعتماد کی تحریک مسترد کرنے اور اسمبلیاں تحلیل کئے جانے پر ملک کے عوام کو مبارکباد

اکستان تحریک انصاف ضلع حیدرآباد کے رہنما عمران قریشی نے عدم اعتماد کی تحریک مسترد کرنے اور اسمبلیاں تحلیل کئے