آفات یا سیلابوں پر مکمل طور پر قابو نہیں پایاجا سکتاانجینئر احسان لغاری
حیدراباد(گردوپیش)ارسا میں سندھ کے نمائندے انجینئر احسان لغاری نے کہا ہے کہ آفات یا سیلابوں پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکتا، اس لیے ہمیں سیلابوں کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات یا سیلابوں کی وجہ صرف ماحولیاتی تبدیلیاں ہی نہیں ہوتیں بلکہ ان آفات سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی تیاریوں اور طرز حکمرانی کے طریقے بھی ان کا سبب بنتے ہیں۔

انہوں نے یہ بات آج کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں میٹا میٹا ریسرچ نیدرلینڈ اور پی ڈی ایم اے سندھ کے باہمی تعاون سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سیمینار کا مقصد 2022 کے سیلاب سے حاصل شدہ اسباق اور قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے تیاریوں پر غور کرنا تھا۔ انجینئر احسان لغاری نے کہا کہ 2022 کے سیلاب کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں ایل بی او ڈی (LBOD) اور آر بی او ڈی (RBOD) منصوبوں کی تکمیل نہ ہونا، بیراجوں کے پشتے کمزور ہونا، اور نہروں کے کناروں پر قبضے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2010 اور 2022 کے سیلابوں نے سندھ میں سیلاب کے اسباب کو عیاں کر دیا ہے، اس لیے اب ہمیں سیلاب کی تیاری کے لیے حکمت عملی بنانی ہوگی تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔ سیمینار سے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر آپریشنز محمد شایان شاہ، ڈی جی واٹر سیکٹر امپروومنٹ پروگرام نظیر میمن، سلیم الرحمان شیخ، عمران لغاری، محمد سلیمان جی ابڑو، سرواں بلوچ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے قدرتی آفات کی وجوہات، حاصل شدہ نتائج، نقصانات کو کم کرنے کے لیے تیاریوں اور معاشرے کو آفات سے متعلق آگاہی دینے پر زور دیا۔ میٹا میٹا کے کنٹری ہیڈ اشفاق سومرو نے ادارے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ گزشتہ 25 سال سے کام کر رہا ہے اور 10 ممالک میں فعال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میٹا میٹا نے سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں 2022 کے سیلاب کی وجوہات اور اس سے حاصل شدہ نتائج پر تحقیق کی ہے۔ ان کے مطابق 2010 کے سیلاب میں 20 ملین جبکہ 2022 میں 31 ملین افراد متاثر ہوئے. سیمینار میں محمد اسماعیل کنبھَر، صحافی ذوفین، سحر گل بھٹی، ناصر پنهور، ڈاکٹر علی اکبر هنڱورجو، فوزیہ عزیز اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

