تعلیم

والدہ کے قاتلوں کی گرفتاری صدف حاصلو کیس کے طرز پر کرکے انصاف فراہم کیاجائے ترجمان جامعہ سندھ نادرمغیری

حیدرآباد(گردوپیش ) آئی جی پی سندھ، غلام نبی میمن کے نام ایک پُراثر کھلے خط میں سندھ یونیورسٹی جامشورو کے پبلک ریلیشنز آفیسر/ترجمان نادر علی مغیری نے اپنی والدہ سرداراں خاتون کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے لیے پرزور اپیل کی ہے۔ انہوں نے اس کیس کا موازنہ دو دن قبل ہونے والی صدف حاصلو قتل کیس میں پولیس کی برق رفتاری سے کیا ہے۔ نادر علی مغیری کی والدہ سرداراں خاتون کو 5 دسمبر 2024 کو تھانہ سٹی، قمبر کی حدود میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ تقریباً چھ ماہ گزرنے اور متعدد درخواستیں آئی جی پی اور دیگر اعلیٰ حکام کو براہ راست دینے کے باوجود نامزد ملزمان — خیرو مغیری عرف مرتضیٰ جمالی اور اس کا بیٹا ماجد مغیری تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نہ صرف قانون کی گرفت سے بچتے رہے ہیں بلکہ وہ انہیں اور ان کے والد جان محمد مغیری کو بارہا جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور یہاں تک کہ ایک ہفتہ قبل ان کے گاؤں میں واقع گھر پر وہ حملہ بھی کر چکے ہیں۔ اپنے کھلے خط میں نادر علی نے سندھ پولیس کے رویے کو “عملی عدم مساوات کی واضح مثال” قرار دیتے ہوئے شدید مایوسی و اضطراب کا اظہار کیا۔ انہوں نے لیڈی ٹیچر صدف حاصلو کے قتل میں پولیس کانسٹیبل فرید حاصلو کی گرفتاری کی مثال دی، جو سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ لاڑکانہ کے عدالتی دباؤ کے بعد ممکن ہو سکی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ اسی ضلع کی پولیس کے سربراہ ایس ایس پی قمبر شہدادکوٹ ساجد امیر سدوزئی ہے تاہم پولیس ان کی والدہ کے کیس میں کوئی سنجیدہ کارروائی نہ کر سکی۔ انہوں نے سوال اٹھایا: “آپ خود صدف حاصلو کیس میں عدالت میں پیش ہوئے، 25 لاکھ روپے انعامی رقم کا اعلان کیا اور ملزم اسی دن گرفتار کر لیا گیا۔ میری والدہ کے لیے ایسا کیوں نہیں ہوا، جبکہ میں آپ کو تحریری طور میں اپیل کر چکا ہوں؟ انہوں نے آئی جی سندھ سے کہا کہ عدالت میں جانے کے بعد اپنی عزت و عہدہ بچانے کے لیے آپ حرکت میں آئے، کیا مجھے بھی لازمی طور پر انصاف کے لیے معزز عدالت کا دروازے کھٹکھٹانہ ہوگا؟ سندھ یونیورسٹی ترجمان نے اس بات پر زور دے کر آئی جی پی سندھ سے کہا کہ انصاف صرف عدالتی مداخلت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کی بھی کچھ ذمیواری بنتی ہے۔ انہوں نے ایس ایس پی قمبر شہدادکوٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے آئی جی کو ایک “جھوٹی، گمراہ کن اور ظاہرداری پر مبنی رپورٹ” پیش کی، حالانکہ انہیں ملزمان کی گرفتاری اور رپورٹ پیش کرنے کے لیے 10 مارچ 2025 تک کا وقت دیا گیا تھا۔نادر مغیری نے کہا کہ انہوں نے سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار سے بھی رجوع کیا، جنہوں نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عامر فاروقی کو انکوائری سونپی، مگر اب تک کوئی تفتیش یا پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے آئی جی سندھ سے اپیل کی کہ وہ صدف حاصلو کیس کی طرز پر انصاف کے تقاضے پورے کریں، خیرو مغیری اور مسجد مغیری کی گرفتاری پر انعامی رقم کا اعلان کریں، تفتیش کی خود نگرانی کریں اور مزید تاخیر یا قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے فوری قدم اٹھائیں۔ خط کے آخر میں ایک جذباتی انداز میں انہوں نے لکھا:
“میں آپ سے پھر پوچھتا ہوں، ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کے ترجمان کے طور پر نہیں، بلکہ ایک سوگوار بیٹے کے طور پر۔کہ کیا آپ اب کارروائی کریں گے؟ یا ہمیں خاموشی سے تکلیف سہنی پڑے گی جبکہ قاتل آپ کی نگرانی میں آزاد گھوم رہے ہیں؟” سابق سینئر صحافی نے یہ خط وزیر داخلہ سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری کو بھی ارسال کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ کھلا خط قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مساوات اور سندھ پولیس کے اندر احتساب کے عمل کو تازہ کر رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس معاملے میں بھی وہی فوری اقدامات کیے جاتے ہیں جیسے صدف حاصلو کیس میں عدالتی سرزنش اور برہمی کے بعد کیے گئے تھے۔

girdopesh

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے