جامعہ سندھ مادر علمی کی اراضی پر غیر قانونی قبضے پر سخت تشویش کااظہار
حیدرآباد(گردوپیش)جامعہ سندھ انتظامیہ نے اپنی اراضی پر قائم سندھ یونیورسٹی ٹاؤن شپ اسکیم لینڈ پر غیر قانونی مکانات کی تعمیر کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فنڈز کے اجراء پر شدید اظہار تشویش کیا ہے اور کہا ہے کہ مختلف لوگوں کی جانب سے جامعہ سندھ کی اراضی پر قبضہ کرنے کے بعد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رقم لیکر وہاں مکانات تعمیر کر رہے ہیں، جو کہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔ رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر مشتاق علی جاریکو کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خلیل الرحمان کھمباٹی کی جانب سے جلال مری و دیگر کو جامعہ کی زمین پر پیر باجدی کے قریب سندھ یونیورسٹی ایمپلائز کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اور ریلوے لائن سے متصل علاقے میں مقیم لوگوں کیلئے کی گئی ادائیگیوں کا نوٹس لیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بی آئی ایس پی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اقدامات لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مالی امداد ان لوگوں کو نہ دی جائے جو یونیورسٹی کی زمین پر غیر قانونی قبضہ کرکے بیٹھے ہیں۔ بیان میں یونیورسٹی کی ٹاؤن شپ اسکیم لینڈ پر دوسری غیر قانونی بستیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جن میں پیر باجدی، عبداللہ چاوڑو (لیاقت یونیورسٹی جامشورو کے مشرق میں)، دین محمد چانڈیو (سندھ یونیورسٹی واٹر سپلائی لائن کے پاس)، عالم بروہی (سندھ یونیورسٹی ریلوے لائن/ ریلوے اسٹیشن کے قریب) اور یوسف کھوسو/ مصری کھوسو گوٹھ (لیاقت یونیورسٹی جامشورو کی پچھلی طرف) شامل ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے قبضوں کو روکنے اور یونیورسٹی کی املاک کی حفاظت کیلئے زور دیتے ہوئے کہا کہ قبضہ مافیا کی جانب سے مزید ناجائز قبضے روکنے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جامعہ سندھ نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں، غیر قانونی قبضہ کرنے والی لینڈ مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں اور جامعہ کی سرکاری املاک کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
