حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے پیداکرنے کیلئے تیار ہوں راجہ پرویزاشرف
اسلام آباد (گردوپیش )حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہوںاسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف ان ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صانہوں نے کہا کہ صحافتی برادری کو درپیش چیلنجز کا حل موجودہ پارلیمنٹ کی اولین ترجیح ہےصحافی ورکرزکووقت پرتنخواہیں ملنی چاہئے تنخواہوں میں تاخیرنہیں ہو نی چاہئے
اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ملکی ترقی میں شعبہ صحافت کے کردار کو سراہااور کہاکہ صحافت اور سیاست کا ایک دوسرے کے ساتھ چولی اوردامن کا ساتھ ہے۔میڈیا کمیونٹی نے قومی اور بین الاقوامی سیاسی مسائل کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پھیلانے اور ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہم ہمیشہ سے یہ بات سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے، تاہم موجودہ چیلنجز کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ واقعی ہی پاکستان اس وقت تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو مشکل حالات سے نکلالنے کے لیے میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاستدان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے میڈیا بھی اپنا مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بطور پاکستانی ہر ایک کو ملک کو چیلنجز سے نکالنے کے لیے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے معاشرے میں برداشت اور تحمل پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس تمام عدم برداشت کے رویے کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ملک میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے کردار ادا کیا جائے۔
انہوں نے پی ایف یو جے کے ممبران کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے پلیٹ فارم پر صحافیوں کو درپیش مسائل کو بیان کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے لیے مدعو کرنے کا کہا۔
سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آئین کی پاسداری پاکستان میں ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔منفی پروپیگنڈے کو ختم کرنا اور اس کی حوصلہ شکنی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سوشل میڈیا کے منفی رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنا میڈیا کا فرض ہے کیونکہ صحافیوں کے پاس قلم کی طاقت ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا صحافت کا شعبہ پارلیمنٹ کا اہم جزو ہے۔پریس گیلری کے بغیر پارلیمنٹ کے ایوانوں کی کاروائی مکمل نہیں ہوتی۔پاکستان میں تمام یادگار دنوں کو بڑی شیان شان طریقے سے منایا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ آئندہ یوم صحافت کو خصوصی طور پر منانے کا عزم رکھتی ہے 19 نومبر کو دنیا بھر میں صحافت کے عالمی کے موقع پر قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر اس دن کو خصوصی طور پر منایا جائے گا اور اس دن کے لیے میڈیا کی ملک بھر میں قائم تنظیموں کے نمائندوں کو خصوصی طور مدعو کیا جائے گا۔
انہوں نے صدر پی ایف یو جے نواز رضا کی صحافتی برادری کے لیے پیش کی جانے والی خدمات کو سراہا۔اسرکہاکہ وہ صحافتی برادری کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔
سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اے ایچ خانزادہ نے ملک بھر میں میڈیا کمیونٹی کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔اورکہاکہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی صحافتی برادری کے ساتھ گہری وابستگی کو سراہا۔انہوں نے کہا انہوں نے ہمیشہ صحافی برادری کا ساتھ دیا ہے۔تمام صحافتی برادری ملک کے وسیع تر مفادات کی خاطر اسپیکر قومی اسمبلی کے وژن کے ساتھ کھڑی ہے۔موجودہ صورتحال میں صحافی برادری کو شدید مسائل کا سامنا ہے اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
صدر پی ایف یو جے نواز رضا نے ملاقات کا موقع فراہم کرنے پر سپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی ملکی ترقی کی کنجی ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف صحافی برادری کے مسائل کے حل کے لیے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔
سپیکر راجہ پرویز اشرف نے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) کے نومنتخب اراکین سے حلف لیا۔ بعد ازاں پی ایف یو جے کے میڈیا نمائندوں نے قومی اسمبلی کے ہال کا دورہ بھی کیا۔

