کچی آبادیوں کو سہولیات کی فراہمی کے کام کو جلد از جلد تیزکیاجائےمحمد شفیق مہیسر
حیدرآباد(گردو پیش) سیکرٹری محکمہ کچی آبادی محمد شفیق مہیسر نے حیدرآباد ڈویژن میں قائم کچی آبادیوں کو سہولیات کی فراہمی کے کام کو جلد از جلد تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈویژنل کمشنر حیدرآباد آفس اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
ڈویژنل کمشنر حیدرآباد بلال احمد میمن، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد فواد غفار سومرو، محکمہ کچی آبادی کے ریجنل ڈائریکٹر انجنئیر کاشف خان اور دیگر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ اجلاس میں محکمہ کچی آبادی کے افسران نے بریفنگ دی، سیکرٹری کچی آبادی محمد شفیق مہیسر نے کہا کہ سندھ حکومت کی پالیسی ہے کہ صوبے میں کچی آبادیوں کو ریگولرائز اور سہولیات فراہم کرنا ہے، اس کام کو تیز کرنے کے لیے سندھ میں ضلعی سطح پر کچی آبادیوں کے لیے ضلعی رابطہ کمیٹیاں ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں قائم کی گئی ہیں جو کچی آبادیوں کو ریگولیٹ کرنے کے کام میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گی، محکمہ کچی آبادی کے افسران مسائل کے حل کے لیے ڈی سیز سے رابطہ کریں اور ماہانہ رپورٹ پیش کریں تاکہ کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق فراہم کیے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ڈویژن میں کل 387 آبادیاں ہیں جن میں سے 220 نوٹیفائیڈ ہیں باقی 167 کو نوٹیفائیڈ کرنے کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع حیدرآباد میں 149 کچی آبادیوں میں سے 66 نوٹیفائیڈ اور83 آبادیاں ان نوٹیفائیڈ ہیں اس طرح مٹیاری کی 17 میں 11 جامشورو کی 22 میں سے 13ٹنڈوالہیار کی 23 میں سے 4 ٹنڈو محمد خان 9 میں سے 4 ٹھٹھہ 48 میں سے 39 سجاول 37 میں سے 29بدین 52 میں سے 44 اور دادو 30 میں سے 10 کچی آبادیاں نوٹیفائیڈ ہیں باقی ان نوٹیفائیڈ آبادیاں پر کام جا ری ہے اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کچی آبادیوں کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اجلاس منعقد کریں ۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ڈویژن میں کچی آبادیوں کی نوٹیفائیڈ کرنے کے لیے تیزی سے کام کرنے ضرورت ہے تاکہ انہیں مالکانہ حقوق دیے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے ان نوٹیفائ یڈ کچی آبادیوں کی نشاندہی کرکے سروے کیا جائے گا، پھر نوٹیفکیشن کے بعد انہیں ریگولرائز کیا جائے گا۔انہوں نے ریجنل ڈائریکٹر انجنئیر کاشف خان کو ہدایت کی کہ وہ ڈویژن کے تمام ڈی سیز سے ملاقات کریں اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں،اور فوری اقدامات کریں، افسران خود حکمت عملی بنائیں، ہمیں مستعدی سے کام کی ضرورت ہے، ہمارا مقصد کچی آبادیوں کے مکینوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملکانہ حقوق کی فراہمی بھی اولین ترجیح ہے۔