محکمہ آبپاشی کی مصنوئی قلت کے باعث سندھ میں خریف کی فصل متاثر
حیدرآباد(رپورٹ لالہ مرزاخان)محکمہ آبپاشی کی جانب سے پانی کی مصنوئی قلت پیداکرنے کے باعث سندھ میں خریف کی فصلیں سخت متاثر ہو نے کا اندیشہ پیدا ہوگیاہے ،کاشتکاروں نے ماہ رمضان کے بعد احتجاج کیلئے کمرباندھ لی ہے،
ربع کی فصل کٹنے کے فوری بعد خریف کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں،تاہم اس سال ربع کی فصل کٹنے کے فوری بعد محکمہ آپباشی نے پانی کی مصنوئی قلت پیداکرکے کسانوں کوسخت پریشان کیاہوا ہے،
محکمہ آبپاشی کے عملے نے ایسے وقت میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کی ہے جس وقت خریف کی فصلیں کاشت کی جا رہی ہیں ،محکمہ آبپاشی کی عدم توجہی کے باعث اس سال خریف کی فصلیں متاثرہو سکتی ہیں، ،چھوٹے زمینداروں نے بتایاکہ محکمہ آبپاشی کے عملداروں نے ہمارے حصے کا پانی بااثرزمینداروں میں بھاری رقم کے عیوض فروخت کیاہواہے جبکہ ہمیں بتایاجارہا ہے کہ پانی کمی ہے،
انہوں نے الزام عائد کیاکہ محکمہ آبپاشی نے بااثر زمینداروں کے ساتھ ملکر نہروں سے ڈائریکٹ پائپ ڈال کرپانی نکال رہے ہیں ،جو کہ غیر قانونی عمل ہے ،انہوں نے کہا کہ صاحب حیثیت زمیندارٹیوب ویل کے ذریعے بھی اپنی زمینوں کو سیرآب کر سکتے ہیں جبکہ ہما ری فصل سوکھ رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ اگر فوری طور پران کے اس اہم مسئلے کی طوف توجہ دیکر حل نہیں کیاگیا توخریف کی فصلیں متاثرہونے کا خدشہ ہے،انہوں نے محکمہ آبپاشی اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اپنے راشی عملے کے خلا ف قانونی کاروائی کرتے ہو ئے فصلوں کوپانی کی فراہمی کویقینی بنائیں
