تعلیم

گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی حیدرآباد میں یومِ وفاتِ اقبال کے موقع پر سیمینار کاانعقاد کیاگیا،

حیدرآباد(گردو پیش ) گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی حیدرآباد میں یومِ وفاتِ اقبال کے موقع پر سیمینار، ماہرین کا فکرِ اقبال کو نوجوانوں میں عام کرنے پر زور

گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی حیدرآباد میں یومِ وفاتِ اقبال کے سلسلے میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر معظم علی خان نے کی۔

مقررین میں اقبال کے شارح، معلم، محقق اور شاعر پروفیسر ڈاکٹر سید عتیق احمد جیلانی، نقاد اور سابق صدر شعبۂ اردو جامعۂ سندھ پروفیسر مرزا سلیم بیگ، پرنسپل گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ٹھٹھہ پروفیسر شفیق الرحمٰن، رئیس کلیہ فنونِ لطیفہ و علومِ انسانی پروفیسر ڈاکٹر مخدوم محمد روشن صدیقی، اور صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر حسن راشد شامل تھے۔

شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر معظم علی خان نے سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کو ہم نے فراموش کر دیا ہے اور ہم ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔

جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اقبال کی فکر کو نوجوانوں میں عام کرنا چاہیے۔

شعبۂ اردو کو فکرِ اقبال اجاگر کرنے کے لیے ایسے پروگرام منعقد کرنے چاہئیں۔

پروفیسر ڈاکٹر سید عتیق احمد جیلانی نے کہا کہ اقبال کو جاننے کے لیے سوشل میڈیا کے بجائے بنیادی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

اقبال نے خود شناسی کے ذریعے سوچنے اور سمجھنے کا ایک نظام دیا۔

اقبال کی فکر ایک ایسے انسان کی متقاضی ہے جو اس فانی دنیا میں مثالی کردار کا حامل ہو، بے عمل کے بجائے باعمل ہو۔

اقبال کے نزدیک عشقِ رسول ﷺ سرمایۂ حیات ہے۔

اس لیے ایک شخص نے خدا کے وجود کو فلسفے کی صورت میں سمجھنا چاہا، لیکن اقبال نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ پر ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے، اور یہی کافی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اقبال کے آفاقی پیغام کو نوجوانوں میں راسخ کیا جائے۔

پروفیسر مرزا سلیم بیگ نے کہا کہ مخلوق خالق سے شکوہ نہیں کر سکتی، بلکہ نائب اپنے اعلیٰ سے شکوہ کرتا ہے۔

انسان اللہ کا نائب ہے، اس لیے اس کا شکوہ بنتا ہے- اسی بات کو اقبال نے “شکوہ” کی صورت میں بیان کیا ہے، اور اس “شکوہ” کا جواب “جوابِ شکوہ” میں دیا ہے۔

نظم “ابلیس کی مجلسِ شوریٰ” میں ابلیس کو حرکت و عمل کا نمائندہ دکھایا گیا ہے۔

پروفیسر شفیق الرحمٰن نے کہا کہ اقبال برصغیر میں پیدا ہوئے، لیکن اقبال پوری دنیا کے شاعر ہیں۔ ہمیں اقبال کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔

پروفیسر ڈاکٹر مخدوم محمد روشن صدیقی نے ابتدائی کلمات ادا کیے، جبکہ صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر حسن راشد نے شعبۂ اردو کی جانب سے اظہارِ تشکر کیا۔

سیمینار میں سالِ اول کی طالبہ سیدہ فاطمہ نے اقبال کی شہرۂ آفاق نظم “شکوہ” پیش کی۔ شیخ الجامعہ نے مہمان مقررین کو سندھ کا روایتی تحفہ اجرک پیش کیا۔نظامت کے فرائض سال سوم کی طالبات سونیا شیخ اور لبیکا خان نے انجام دیے۔

girdopesh

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے