کالم

احسانات

معرکہ حق اور ہماری زمہ داری

رضوان احمد گدی

آج پاکستان بھر میں معرکہ حق کی فتح اور پاکستان کو سرخروئی کا دن منایا جا رہا ہے آج اس معرکہ کو گزرے ایک برس گزر گیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم نے اس ایک سال میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور انکی ٹیم ورک میں وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں دنیا بھر میں ایران اسرائیل امریکہ اور خلیجی ممالک کی جنگ میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا اسے دنیا بھر میں سراہا گیا اور تسلیم کیا گیا اس سے ہر محب وطن پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہوا ہے
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ اسے قیام پاکستان سے ہی مشکلوں سازش کا باہر اور اندر سے سامنا رہا عالمی طاقتوں اور ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہماری نااہلی اور بدانتظامی کو استعمال کر کے ہمارے آدھے بازو مشرقی پاکستان کو ہم سے علیحدہ کرنے میں جو کردار ادا کیا اسے کوئی محب وطن پاکستانی نہیں بھولا 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر اس وقت کی پاکستانی قیادت یکسو ہوئی کہ پاکستان کے دفاع کو مستقبل میں ناقابل تسخیر بنانے کے لئے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی گئی اس ایٹمی پروگرام میں جس جس نے اپنا کردار ادا کیا عالمی طاقتوں نے اندرونی و بیرونی سازشوں کے ذریعے انہیں سبق سکھایا ذوالفقار علی بھٹو نے بنیاد رکھی جنرل ضیاء الحق نے امریکہ اور یورپ کو روس کے ساتھ افغانستان میں مصروف رکھ کر ایٹم بم بنا ڈالا محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایٹمی تعاون کے عوض شمالی کوریا سے دفاع کی مضبوطی کے لئے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی نواز شریف نے دنیا بھر کا پریشر برداشت کر کے ایٹمی دھماکے کئے محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر نے ایٹم بم بنایا درج بالا ساری شخصیات نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے پاکستان کو پہلی ایٹمی اسلامی ریاست بنایا اور ہمارے سر فخر سے بلند کئے درج بالا دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی قیمت چکائی لیکن آج ہر محب وطن پاکستانی ان شخصیات کا میری نظر میں مقروض ہے 1979 سے افغانستان عالمی طاقتوں کا میدان جنگ بنا ہوا ہے اور اسی برس سے ایران میں عرب اسرائیل امریکہ کا کولڈ وار اور اب باقاعدہ جنگ کا میدان بنا ہوا ہے اسی طرح انڈیا نے افغانستان ایران کے ذریعے 1979 سے ہی دہشت گردی کو فروغ دیا ہوا ہے اور باقاعدہ پاکستان کے دو صوبوں کے پی کے اور بلوچستان میں کھلے عام اپنی پراکیسیز چھیڑیں ہوئی ہیں سندھ میں علیحدگی پسندوں اور کراچی کو مختلف جہادی لسانی فرقہ پرست گروہوں کے ذریعے مختلف طریقوں سے استعمال و عدم استحکام پیدا کیا جاتا رہا ہے دوسری طرف کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو فوجی طاقت و ظلم کے ذریعے کشمیری عوام کی آواز آزادی کو دباتا آ رہا ہے پاکستان کی سیاست و معیشت پر اس کے گہرے اثرات ہیں یہاں مختلف تجربے کئے گئے اور ہر تجربہ کے نتائج عوام نے بری طرح بھگتے آخری تجربہ تحریک انصاف کو جس طرح لایا گیا اور رجیم چینج کے بعد انکے بیانیے اور ملک دشمن طاقتوں کا تقریباً بیانیہ ایک ہو گیا اس کی مثال اس طرح کہ پاکستان کی اکثریت اس سوشل میڈیا طوفان کے آگے حق سچ کو غلط ملط کر دیا اور ملک بھر میں 2023 کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے ایک سیاسی جماعت نے یہ تاثر دیا کہ پاکستان کی افواج اور عوام میں دوری ہے اور جنگ لڑنا اس فوج کے بس کی بات نہیں ملک کی خراب معیشت اس جنگ کی متعمل نہیں ہو سکتی پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا پاکستان سے عالمی طاقتیں ایٹم بم لیکر اسے دوبارہ کھڑا کریں گی وغیرہ وغیرہ انڈیا نے گزشتہ سال یہ اندازہ لگا کر کہ پاکستان کی عوام اپنی افواج پاکستان اور ملک سے خیرخواہ نہیں ہے اور پہلگام واقعے کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف طاقت کے نشے میں اعلانیہ جنگ چھیڑ دی اور چاروں طرف سے حملہ کر دیا ایسے میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور انکے ساتھ فضائیہ کی قیادت نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا امریکہ نے حسب روایت اس موقع پر پاکستان کی مدد کرنے کے بجائے جنگ سے پہلے اپنے دئیے گئے ایف 16 کو انڈیا کے خلاف ممکنہ جنگ میں استعمال کرنے سے روک دیا لیکن پاکستان کی بہادر افواج نے جنرل عاصم منیر کی قیادت میں اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر انڈیا کو ناکوں چنے چبوائے جنرل عاصم منیر اور انکی ٹیم نے اس جنگ میں چاروں طرف انڈیا کی طاقت رافیل کو زمین بوس کر کے اس کے بوگس میڈیا کے بڑھکیں اور پاکستان میں اس وقت ان کے سہولت کاروں کے سوشل میڈیا طوفان کو منہ دے کر پاکستان کو سرخرو کیا اور اسی کامیابی کو استعمال کرتے ہوئے پڑوس میں اسلامی ملک ایران اور سعودی عرب و دیگر اسلامی ممالک کی ہر ممکن مدد کر کے اپنی فوجی طاقت اور سیاست کو دوام بخشا جس پر ہر پاکستانی آج سرشار ہے اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے اور ہمیں محب وطن پاکستانی بننے کی توفیق عطا فرمائے

girdopesh

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی