ریڈیو پاکستان حیدرآباد کی 70 ویں سالگرہ منائی گئی،
حیدرآباد(گردوپیش) ریڈیو پاکستان حیدرآباد کی 70 ویں سالگرہ ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں منائی گئی، جس میں ملک کے سینئر براڈ کاسٹرز، سرکاری افسران، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ریڈیو کے ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریڈیو پاکستان کے اسٹوڈیوز میں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا، جس کے بعد استاد نیاز حسین آڈیٹوریم میں سالگرہ کی تقریب منعقد کی گئی،

تقریب کا آغاز خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے سیلاب متاثرین کے لیے دعا اور ان سے اظہارِ یکجہتی کے ساتھ کیا گیا. مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید میڈیا کے دور میں بھی ریڈیو کی اہمیت اور افادیت برقرار ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسٹیشن ڈائریکٹر علی اکبر ہنگورجو نے کہا کہ ریڈیو حیدرآباد نے لوک ادب سے لے کر بچوں کے ادب تک، لوک موسیقی سے لے کر کلاسیکی موسیقی تک، تعلیم سے لے کر سماجی شعور بیدار کرنے تک ایک بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو نے زراعت کی ترقی اور ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ جدید دور کے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے پوڈ کاسٹ اسٹوڈیوز اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے نشریات کا آغاز کیا گیا ہے، جسے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہم نے ریڈیو کا ریکارڈ بھی ڈیجیٹلائز کیا ہے اور اب ریڈیو کی نشریات ڈیجیٹل میڈیا پر جاری ہے۔جنہیں دنیا بھر کے سامعین پسند کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان کی حیثیت ایک عوامی براڈکاسٹر کے طور پر اس معاشرے میں منفرد ہے، جو کبھی کم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان حیدرآباد آج بھی ثقافت اور ادب کی ترقی میں شاندار کردار ادا کر رہا ہے۔ سندھ بھر کے فنکار ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے میوزک شعبے سے وابستہ ہیں، جن میں قدیم مقامی ساز بھی شامل ہیں۔ نامور براڈ کاسٹر نصیر مرزا نے کہا کہ ریڈیو حیدرآباد پر انمول پروڈیوسرز اور عملہ رہا ہے، جو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ریڈیو کے کئی فنکاروں پر پی ایچ ڈی کی جا رہی ہے، جو ریڈیو حیدرآباد کی بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو حیدرآباد نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے رسالے کو ریکارڈ کیا ہے اور کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم الیاس عشقی سمیت ان براڈکاسٹرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں . تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی زراعت سندھ منیر احمد جماڻي نے کہا کہ ریڈیو پاکستان اور محکمہ زراعت کے تعاون سے کئی پروگرامز جاری ہیں اور عوام میں زرعی شعور اجاگر کرنے میں ریڈیو اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ معروف ادیب شبنم گل نے کہا کہ ریڈیو میڈیا کی تربیت کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں میڈیا کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو تربیت دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر ڈرامے کے شعبے میں ریڈیو کا بنیادی کردار ہے اور یہاں سے صداکاری کی تربیت حاصل کرنے والے افراد نے میڈیا کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جِمخانہ کے صدر آغا تاج نے کہا کہ جِمخانہ حیدرآباد اور ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے تعاون سے مختلف پروگرامز منعقد کیے جائیں گے۔ آخر میں ایک محفلِ موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں ذوالفقار علی، مومل بہار اور سید حبیب شاہ نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جبکہ پروگرام کے پروڈیوسر محمد یاسین جوڻیجو اور نگران محمد حسین تھے۔

