تعلیم

گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی حیدرآباد

سیدہ زونیشہ جاوید
لیکچرر شعبۂ اردو
گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی حیدرآباد

جی سی یونیورسٹی حیدرآباد میں نو وارِد طلبہ کے لیے منعقدہ تقریبِ استقبالیہ

کہتے ہیں ہر ادارہ صرف اینٹوں کا مجموعہ نہیں ہوتا، کچھ عمارتیں روح رکھتی ہیں—ان کی راہداریوں میں وقت بولتا ہے، دیواروں پر لفظوں کی مہک ہوتی ہے، اور در و دیوار سے علم سرگوشی کرتا ہے۔ آج کا دن کچھ یوں تھا کہیں لفظ درختوں کی اوٹ سے جھانک رہے تھے، کہیں خاموشیاں در و دیوار سے لپٹی بیٹھی تھیں، اور کہیں ہوا خوشبو بن کر چل رہی تھی ۔جب کوئی نیا قدم درس گاہ کی دہلیز پر پڑتا ہے تو صرف ایک طالبِ علم نہیں آتا، اُس کے ساتھ اُمیدیں، خواب، جذبے اور ایک نیا سفر آتا ہے۔ شعبۂ اُردو کی پہچان صرف زبان کا سیکھنا نہیں، بلکہ تہذیب، محبت، علم اور ادب سے ربط پیدا کرنا ہے۔ ایسے ہی جذبوں کو سمیٹتے ہوئے، شعبہ اُردو، گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی حیدرآباد نے ۲۳ مئی ۲۰۲۵ءکو نووارد طلبہ کے لیے ایک پُروقار ” استقبالیہ تقریب ” کا اہتمام کیا، جو نہ صرف ایک رسمی خیر مقدمی محفل تھی، بلکہ ایک ادبی تہوار کی صورت اختیار کر گئی۔کبھی کبھی چند لمحے ایسی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں جو دیر تک ہمارے دل و دماغ کو معطر رکھتی ہے ۔ یہ تقریب بھی ایک ایسا ہی لمحہ ثابت ہوئی جو ادب اور روایتوں کی خوشبو سے مہکی ہو۔ نووارد قدوم، کچھ لرزتے، کچھ پرجوش، کچھ اُمیدوں کے دامن تھامے، جب اس علمی صحن میں داخل ہوئے، تو گویا وقت نے اپنا نیا باب کھولا۔ ایک ایسی تقریب، جس کی بنیاد علم پر تھی، مگر چھت ادب سے بنی تھی؛ جس کی دیواریں روایتوں سے اٹھیں، اور روشندانوں سے خواب جھانکتے رہے۔نو وارد طلبہ، جن کے چہروں پر حیرت اور امید کے رنگ اُترتے چڑھتے تھے، پہلی بار اس ادبی بستی میں قدم رکھ رہے تھے۔ ان کے استقبال کے لیے جو محفل آراستہ کی گئی تھی، وہ محفل نہیں،ایک منظر تھی، ایک کہانی، جس میں ہر کردار نے اپنی موجودگی سے تخیل کے کینوس پر رنگ بھر دیے۔مئی کا سورج بھی اسی عزائم کے ساتھ طلوع ہوا کہ جب شعبۂ اردو ،گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی میں نووارد طَلَبہ کے اعزاز میں ایک پروقار استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی. جس کا مقصد نو آورد طلبہ کو علمی و ادبی ماحول سے متعارف کرانا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا ۔

۲۳ مئی کا گرم دن مگر چاہتوں ، محبتوں اور خلوص کی ٹھنڈک لیے یہ دن نووارد طلبہ کرام کے لیے کسی یاد گار لمحے سے کم نہ تھا کہ جب شعبۂ اردو کے سالِ دوم کے طلبہ نے ناچیز کی سربراہی میں نو وارد طلبہ کے لیے استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی جس کی صدارت صدرِ شعبۂ اردو ڈاکٹر حسن راشد نے کی۔ تقریب میں تمام طلبہ نے بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ پیش کر کے تقریب کو چار چاند لگادیے۔ تقریب میں جامعہ کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ نے بھی شرکت کی اور طلبہ کی کار کردگی کوسراہا ۔جن میں صدرِ شعبۂ اردو ڈاکٹر حسن راشد، صدرِ شعبۂ علومِ اسلامیہ پروفیسر ڈاکٹر مخدوم محمد روشن صدیقی، شعبۂ اسلامیات سے ڈاکٹر جہانزیب رانا، شعبۂ سندھی کے ڈاکٹر شفیق شاہانی اور کائنات چانڈیو، شعبۂ انگریزی کی لیکچرر سمیرا، شعبۂ مطالعۂ پاکستان کی مبشرہ اور شعبہ اطلاعات کی اقرا ، شعبۂ نیچرل سائنس کے لیکچرر محمد بلال شیخ شامل تھے ۔

اس تقریب کی نظامت کے فرائض سال دوم سے حمزہ احمد اور سونیا شیخ نے نہایت اعتماد اور خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ ان کی گفتگو میں نہ صرف روانی تھی بلکہ ایک خاص ادبی چاشنی بھی جھلک رہی تھی۔ کمرہ مہک رہا تھا، نشستیں ترتیب سے جگمگا رہی تھیں، اور چہروں پر خوشی، الجھن اور تجسس کی آمیزش تھی۔ سب سے پہلے قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ہر فرد خاموش کھڑا تھا، دل دھڑک رہا تھا اور لب خاموش تھےلیکن وطن سے محبت اپنی بلند ترین آواز میں بول رہی تھی۔ اس لمحے ہر کوئی اپنی ذات سے بلند، صرف پاکستانی تھا۔۔ بعد ازاں تلاوت کلام پاک کی گئی، جو نہایت خوش الہانی سے سال دوم کے طلبہ سفیان عقیل نے کی۔ پھر سال اول سے سونیا شیخ نے محبت و عقیدت سے لبریز نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیش کی۔ جس نے محفل کو روحانی کیفیت کا سماں باندھا۔ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سال دوم کی طلبہ سونیا شیخ نے “استقبالیہ تقریر ” پیش کی سونیا شیخ کے الفاظ نرم لہجہ جوش سے بھرپور تھا جس نے ماحول کو اپنائیت کے رنگ سے مزین کر دیا تھا ۔ جس میں انھوں نے نہ صرف نئے طلبہ کو پرجوش انداز میں خوش آمدید کہا بلکہ شعبۂ اردو کی علمی اور تہذیبی روایتوں کو بھی خوبصورت پیرائے میں اجاگر کیا۔پھر اس کے بعد سالِ اول اور سالِ دوم سے سفیان عقیل اور قرار حیدر نے اپنی غزلوں کے ذریعے جذبات کے جو رنگ بکھیرے وہ دیر تک سننے والوں کے دلوں میں گونجتے رہے۔ ایک طرف کلاسیکی شعری آہنگ تھا، تو دوسری طرف جدید احساسات کی چاشنی۔ بعد ازاں سروں کے ایسے خوبصورت سفر کا آغاز ہوا جس نے نہ صرف روح کو چھوا اور دل کو بھایا بلکہ آواز، لے،اور ترنم کا ایسا سنگم تھا جس نے دلوں کے تار چھیڑ دیے۔ پھر سالِ اول سے عدین لودھی نے گیت پیش کیا۔ ان کی آواز نے سب کو مسحور کر دیا۔ وہ گانا فقط سر نہ تھا، ایک جذبہ تھا جو ہر دل کی کسی یاد کو چھو گیا۔ جس نے محفل میں چار چاند لگا دیے۔

استقبالیہ تقریب کے اس حسین دن کا سب سے خوشگوار، قہقہوں سے گونجتا اور پرلطف لمحہ وہ تھا جب اسٹیج پر “نمکین” مشاعرہ پیش کیا گیا ۔ جس نے حاضرین کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی اور ہال میں بے ساختہ ہنسی کے پھوارے پھوٹ رہے تھے اور ہر شعر پر داد کا شور۔صدرِ مشاعرہ کی حیثیت سے قرار الحسن المعروف ٹُن میرٹھی نے اپنی مخصوص فقرہ بازی، موقع محل کی چٹکیوں اور برجستہ جملوں سے نہ صرف مشاعرہ سنبھالا بلکہ ہال کو زعفران زار بنا دیا۔ ان کی صدارت میں یہ مشاعرہ صرف ہنسی کا سامان نہ رہا، بلکہ ایک مکمل مزاحیہ تجربہ بن گیا۔کوئٹہ سے سفیان عقیل جنھیں اس مشاعرے میں اسلم پاچا کے قلمی نام سے پکارا گیا، نے اپنی شاعری میں ایسا رنگ جمایا کہ ہر شعر کے بعد قہقہے بلند ہوتے۔ ان کے اشعار میں موجود معصوم مزاح اور بے ساختہ برجستگی نے ہر ایک کو داد دینے پر مجبور کر دیا۔ سکینہ رضوان عرف سلطانہ پھلکی نے جب مائک سنبھالا، تو ان کی شوخ بیانی اور چٹخارے دار تشبیہیں سامعین کو ہنسی کے میدان میں لے گئیں۔ ان کی شاعری گھریلو طنز، سسرالی تذکرے اور چٹ پٹے محاوروں سے لبریز تھی۔علیشا زیدی جنہیں مشاعرہ میں شائستہ مرچی کے طور پر متعارف کروایا گیا، نے مرچوں جیسا تیکھا کلام سنایا۔ ان کی نظموں اور قطعات میں روزمرہ کے واقعات کا مزاحیہ چٹخارے سے بیان ایسا تھا کہ سامعین بار بار فرمائش کرتے نظر آئے:
“مرچی صاحبہ، ایک اور ہو جائے!”
اُمِّ ہانی نے نازک پتھریلی کے قلمی نام سے وہ کلام پیش کیا جو نرمی اور سختی کا ایسا امتزاج تھا کہ شعر سن کر سننے والا پہلے مسکرائے، پھر قہقہ لگائے، اور پھر سوچنے لگے کہ واقعی یہ ’’نازک پتھریلی‘‘ ہی کہلانے کی حق دار ہیں۔مشاعرہ کی پوری محفل میں ایسی فضا قائم رہی جیسے قہقہے اور اشعار کا رقص جاری ہو، اور ہر سامع چاہتا ہو کہ یہ لمحے کچھ اور طویل ہو جائیں ـ مشاعرے سے بننے والی قہقہوں کی فضا زرا سنبھلی ہی تھی کہ سال دوم کی سحر شیخ کی طنز و مزاح، نوک جھوک لیے نظم کے ذوقی لمحات نے اس تقریب کو ہمہ رنگ ادبی جشن میں ڈھال دیا ان کے الفاظ تیز دھار طنز کے ساتھ مٹھاس بھرے تبسم کا امتزاج تھے ۔ اس کے بعد سال اول کی زینب عمران نے گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی حیدرآباد میں اپنے پہلے دن اور چند ساعتوں کی خوبصورت منظر کشی کرتے ہوئے اپنےخوب صورت لمحات کو سامعین کے سامنے پیش کیا جو نہ صرف جذبات و احساسات کے ترجمانی تھے بل کہ جیتی جاگتی تصویر محسوس ہو رہے تھے۔ تقریب میں مختلف ادبی و فنی رنگ شامل کیے گئے نووارد طلبہ اور سینیئرز نے یکساں طور پر شرکت کی اور اپنی فطری صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کیا جو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ شعبۂ اردو میں نئی نسل کے دلوں میں ادب کی چنگاری روشن ہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی صدرِ شعبۂ اردو گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی حیدرآباد ڈاکٹر حسن راشد کو خاکسار نے روایت کے مطابق اجرک کا ثقافتی تحفہ پیش کیا۔بعد ازاں شعبہ اردو کی لیکچرر آمنہ اظہار اور خاکسار نے مختصراً اظہار خیال کیا۔آخر میں صدرِ شعبۂ اردو ڈاکٹر حسن راشد نے اپنے خطاب میں طلبہ کو خوش آمدید کہا اور ان کی علمی و اخلاقی نشوونما کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ تقریب کے اختتام میں تمام اساتذہ کو شاگردوں کی طرف سے گلدستے بہ طورِ تحفہ پیش کیے گئے۔یوں یہ تقریب نہ صرف خوش آمدید کا ایک رسمی انداز تھی بلکہ ایک ایسا موقع جس نے نئے سفر کی بنیاد کو محبت، علم،تہذیب اور روایتوں سے سینچا۔

جلیسانِ ادب حیدرآباد کی ایک یادگار شامِ افسانہ

جلیسانِ ادب، حیدرآباد کی ایک قدیم اور معروف ادبی تنظیم ہے۔ اس کا قیام 1977ء میں عمل میں آیا۔ اس کے بانیان میں پروفیسر حبیب ارشد، قمر مشتاق ، ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی اور ڈاکٹر جاوید اقبال کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ شاندار ادبی تقریبات کے علاوہ ایک شاندار مجلہ “رسالہ” کا اجرا بھی اس کے کریڈٹ پر ہے جس نے ملکی سطح پر گراں قدر تبصرے حاصل کیے۔ ایک طویل عرصے غیر فعال رہنے کے بعد فعال ہوئی ہے۔ نَشأۃ الثانیہ کے نتیجے میں مشاعرے، تنقیدی نشستیں، تقاریب پذیرائی اور تنظیمی اجلاس کا سلسلہ جاری ہوا۔ بزم کے ایک تنظیمی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہرِ حیدرآباد میں ایک شام “شام افسانہ” سجائی جائے گی جس میں حیدرآباد کے افسانہ نگاروں کو سنا اور سراہا جائے گا۔

ڈاکٹر حسن راشد
صدرِ شعبۂ اردو
گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی حیدرآباد

مئی کی سترھویں تاریخ کے گرم دن مگر ٹھنڈی شام ایک محفل “شامِ افسانہ” کے عنوان سے نمل یونی ورسٹی حیدرآباد کیمپس لطیف آباد میں منعقد کی گئی۔ “شامِ افسانہ” حیدرآباد کی ممتاز علمی و ادبی شخصیت اور افسانہ نگار پروفیسر انوار احمد زئی مرحوم سے منسوب تھی۔ تقریب کی صدارت اردو اور سندھی کی ممتاز افسانہ نگار اور ڈراما رائٹر سیدہ نور الہدی شاہ نے کی۔ شامِ افسانہ میں حیدرآباد کے ممتاز افسانہ نگاروں نے اپنا نمائندہ افسانہ پیش کیا۔ ان افسانہ نگاروں میں نور الہدیٰ شاہ، ڈاکٹر شمیم انصاری، ظفر قریشی اور پروفیسر صابر فیاض شامل تھے۔ ڈاکٹر شمیم انصاری نے افسانہ “اپنا گھر پرایا” پڑھا۔ ظفر محمد قریشی نے “میرا بچپن، میرا جگنو، میری گڑیا لادے” پیش کیا۔ پروفیسر صابر فیاض نے اپنا منتخب افسانہ “زیتون کا باغ” کا پیش کیا۔ پروفیسر انوار احمد زئی مرحوم کا افسانہ “سنیچر کا دن” ان کے بھتیجے اور ڈاکٹر مسرور احمد زئی کے صاحبزادے محمد احمد زئی نے نہایت عمدگی سے پڑھا۔

سیدہ نور الہدیٰ شاہ نے اپنے افسانے “سات آسمانوں تلے” کا خلاصہ پیش کیا جس میں شہری اور دیہی زندگی کے حوالے سے مسائل، حالات اور انجام کو اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا۔ افسانے کے موضوع پر صدارتی اور اختتامی اظہارِ خیال میں نور الہدیٰ شاہ نے افسانے پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک طویل عرصے بعد حیدرآباد میں افسانے کے حوالے سے اپنی نوعیت کی شان دار اور منفرد تقریب منعقد کی گئی ہیں جس میں بڑی تعداد میں افسانہ نگاروں، ادیبوں اور اہل علم افراد کی شرکت پر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ میں نے بچپن سے لکھنا شروع کیا۔ اردو میں بھی تحریریں لکھی ہیں لیکن شہرت سندھی افسانوں اور ڈراموں سے ملی ہے۔ میرا تعلق زمین پر کھڑے انسان سے ہے۔ میرا خواب ہے کہ اردو اور سندھی ادیبوں شاعروں اور اہل قلم کو ساتھ بیٹھا دیکھوں کیوں کہ سندھ کے اردو اور سندھی میں لکھنے والے ادیب اور شاعر جس زمین پر پیدا ہوئے ہیں اس میں ان کی جڑیں ہیں۔ ہمارے آنسو، دکھ درد، خوشیاں اور پانی مشترکہ ہیں۔ ہمارا خون بھی ساتھ ساتھ بہتا ہے۔ ہم نے بڑے دکھ دیکھے ہیں۔ اس دھرتی کو روتے اور سستکے دیکھا ہے۔ سیاست اور جنگ بڑی ظالم چیز ہے۔ میرا خواب ابھی سفر میں ہے کہ سندھ کے ادیب و شاعر اور دانشوروں کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھوں۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تاریخ دانوں اور تحقیق کرنے والوں کے قلم ٹھہر جاتے ہیں وہیں سے افسانہ شروع ہوتا ہے۔ افسانہ عام آدمی کے دکھ درد، اس کے مسائل، جنگوں کے آلام و مصاحب بیان کرتا ہے۔ افسانہ اور کہانی اس زمین سے پھوٹتے ہیں جہاں میں اور آپ کھڑے ہیں۔ کہانی تب بنتی ہے جب لکھنے والا گہرائیوں میں اترتا ہے۔ کہانیاں اور داستانیں ہماری زمین میں موجود ہیں۔ مشترکہ کہانیاں قوموں کو اور زمین کے لوگوں کو زندہ رکھتی ہیں۔

جلیسان ادب کے روح و رواں مشتاق قمر نے ابتدائی کلمات ادا کیے جبکہ سرپرست اعلیٰ قدیر الاسلام راشد نے اظہار تشکر کیا۔ شاہد مقبول اختر القادری نے خوش الحانی سے قرأت کی۔ بزم کے سیکریٹری افضال عظیم نے ہدیۂ نعت پیش کیا اور پروفیسر عمران محمود شیخ نے افسانہ، افسانے کی ابتدا اور حیدرآباد کی افسانہ نگاری پر مقالے کے مندرجات اختصار کے ساتھ پیش کئے۔

تقریب کی نمایاں شخصیات میں جلیسان ادب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سید عتیق احمد جیلانی، کراچی چیپٹر کے صدر پروفیسر صفدر علی خان انشا، امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد انجینئر حافظ طاہر مجید راجپوت، سائٹ ایسوسی ایشن چیئرمین اور سابق ایم پی اے عبدالرحمٰن راجپوت، براڈ کاسٹر، ڈراما رائٹر عشرت علی خان، ناظم امتحانات تعلیمی بورڈ حیدرآباد ڈاکٹر مسرور احمد زئی، افسانہ نگار پروفیسر وثیق الرحمان صابر، یونس عظیم سعیدی، ڈاکٹر رفیق احمد خان، پروفیسر وقار احمد وقار، پروفیسر محمد انیس خان، ندیم خاور، پروفیسر فرحت سعیدی، رشید سارب، محسن سلیم، ظہر شمس، کنیز فاطمہ، محمد حنیف شیخ، حافظ‌ سفیان‌ ناصر، پروفیسر عبد اللطیف انصاری، محمد اکرم چھیپا، عبدالحفیظ عابد، تجمل حسین خان، ڈاکٹر فصیح الدین ہاشمی، عبد الغنی انصاری، پروفیسر المینہ شیخ، مسرور انور بٹ، ضیاء الدین، عمر خان کاکا، پروفیسر سعید قریشی ، پروفیسر نعیم شامل، جاوید اخلاق، ڈاکٹر رضوانہ انصاری، ڈاکٹر عامر نیاز چنا، سید عمران عسکری، حافظ محمد عرفان قائم خانی، احسن معید شیخ ایڈوکیٹ، شاہد مقبول، پروفیسر نیئر امین، عبدالواحد شیخ، شجاع الدین ودیگر شامل تھے۔

اُمورِ نظامت نہایت احسن طریقے سے انجام دیے گئے۔ شستہ زبان شائستہ لب و لہجہ, افسانہ نگاروں کا موقع بہ موقع تعارف، ابتدائیہ اور اختتامیہ کلمات نے تمام حاضرینِ محفل کو داد دینے پر مجبور کیا۔ اس تقریب کو یادگار بنانے میں جیمز ٹی وی کے روح رواں وقار احمد وقار کی ذاتی دلچسپی اور محنت کا بڑا دخل ہے۔ ان کی پوری ٹیم کا کردار قابل تعریف رہا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض جیمس ٹی وی کی منیرہ خان، معصومہ زہرا نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔

یہ بات دل چسپی کا باعث ہوگی کہ شامِ افسانہ کے بیشتر منتظمین کی وجۂ شہرت افسانے کی مخالف اور مقبول صنف غزل گوئی ہے۔ اگرچہ افسانے کی نشستیں اس سے قبل بھی منعقد ہوتی رہی ہیں لیکن یہ نشست اس لحاظ سے منفرد تھی کہ اس میں عہد حاضر کی نمائندہ افسانہ نگار خاتون نے بہ طور مہمان خصوصی شرکت کی، نمائندہ افسانہ نگاروں نے افسانے پیش کیے گئے اور تمام صاحبانِ اعزاز افسانہ نگار اسی شہر کے باسی ہیں۔ سامعین میں افسانہ نگار اور نثر نگاروں کے ساتھ ساتھ شعرا اور خواتین کی نمایاں تعداد شریک تھی۔

شام افسانہ کے انعقاد پر جن ادبی تنظیموں نے خوشی کا اظہار کیا اور مبارک دی ان میں دی آرٹس کونسل آف حیدرآباد، بزم تعلیم ادب حیدرآباد، ادبی و ادبی تنظیم جاگو جگاؤ نمایاں ہیں۔ شام افسانہ کے متعلق ڈاکٹر مسرور احمد زئی کہتے ہیں کہ میں1991ء سے ادبی تقریبات میں شرکت کر رہا ہوں بے شمار مشاعروں، ادبی تقاریب، تقاریبِ پذیرائی، مذاکرے ادب نشستوں، ادبی شخصیات کے ساتھ شاموں کا انعقاد اور ادبی شخصیات کے تعزیتی اجلاس وغیرہ میں شرکت کی ہیں۔ ان 34 برسوں میں پانچ شام افسانہ منعقد ہوتے دیکھی ہیں۔ جلیسانِ ادب کی یہ شامِ افسانہ پانچویں بڑی تقریب ہے جو سامعین کی تعداد، شخصیات کے انتخاب اور ان کی شرکت کے لحاظ سے سب سے کامیاب اور تاریخی تقریب تھی۔ اردو لٹریری ایسوسی ایشن انٹرنیشنل حیدرآباد سندھ شاخ کی صدر سیدہ کنیز فاطمہ نے اراکین جلیسانِ ادب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ شام افسانہ کی تقریب نہایت شاندار، یادگار اور بامقصد محفل تھی۔ یہاں ادبی شخصیات بالخصوص افسانہ نگاروں، شاعروں کو ایک ساتھ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ایک طویل عرصے بعد منعقدہ نثری ادب کی شان دار تقریب ہر لحاظ سے یادگار تھی۔

girdopesh

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے