پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کا صحافیوں اورصحافت کو لاحق شدید مشکلات اورکوئٹہ پریس کلب میں آزادانہ سرگرمیوں پرپابندی پر تشویش کا اظہار
اسلام آباد(گردوپئش پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے مجلس عاملہ کے اجلاس نے پا کستان میں صحافیوں اورصحافت کو لاحق شدید مشکلات پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہو ئے صحافیوں پر حملو اورصحافت پرپابندیوں کی شدید مزمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ پر یس کلب میں آزادانہ سرگرمیوں پرکسی قسم کے قدغن کو پرداشت نہیں کیاجائے گا

پاکستان فیڈرل یونین اف جرنلسٹ دستور کی فیڈرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس دستور کی میزبانی میں 30 اگست سے یکم ستمبر تک اسلام اباد میں جاری رہا اجلاس میں پاکستان بھر سے پی ایف یو جے کے مختلف یونٹس کے عہدیداران نے شرکت کی اجلاس کے پہلے دن سینیٹر طلحہ محمود نے پر تکلف ظہرانے کا اہتمام کیا، اس موقع پر سینٹر طلحہ محمود نے پاکستان کے
ذرائع ابلاغ کی اہمیت پر اظہار خیال کیا، ظہرانے کے بعد نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس کا آغاز ہوا، افتتاحی اجلاس میں وفاقی سیکرٹری اطلاعات ونشریات محترمہ عنبرین جان اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن صاحب نے خصوصی شرکت کی، اجلاس کی صدارت پی ایف یو جے دستور کے صدر حاجی نواز رضا نے کی جب کہ نظامت کے فرائض پی ایف یو جے دستور کے سیکرٹری جنرل علاؤالدین خانزادہ نے ادا کئے،

اجلاس میں پاکستان میں آزادی صحافت کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور راہ صحافت میں شہید ہونے والے صحافیوں کے بہیمانہ قتل کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیا اور واضح کیا گیا کہ یہ صورت حال کسی طور قابل قبول نہیں اور ایسے تمام اقدامات کی بھر پور مذمت کی جاتی ہے، مزید برآں کوئٹہ پریس کلب پر عائد کردہ پابندی آزادی اظہار اور صحافت پر براہ راست قدغن ہے جسے فی الفور ختم کیا جانا چاہیے، اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت صحافیوں کے جانی اور مالی تحفظ کو یقینی بنانے کے ٹھوس اقدامات کرے،اجلاس میں پی ایف یو جے دستور کے یونٹس نے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کی، پہلے دن کا اجلاس شام سات بجے اختتام پزیر ہوا، بعد ازاں ایف ای سی کے شرکاء وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے دئیے گئے عشائیہ میں شریک ہوئے، دوسرے دن کے اجلاس سے قبل ایف ای سی کے شرکاء حاجی نواز رضا اور علاؤالدین خانزادہ کی قیادت میں ایم این اے بیرسٹر دانیال چوہدری کی جانب سے اسلام آباد کلب میں دئیے گئے ظہرانہ میں شریک ہوئے، اس موقع پر بیرسٹر دانیال چوہدری نے ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی اور سیاست اور صحافت کے گہرے تعلق پر اپنی رائے کا اظہار کیا، اس موقع پر حاجی نواز رضا نے ملکی سیاست میں صحافتی تاریخ کے نمایاں پہلوؤں پر روشنی ڈالی، علاؤالدین خانزادہ نے صحافتی یونینز کے کردار پر تاریخ دہرائی، بعد ازاں نیشنل پریس کلب میں دوسرے دن کے اجلاس کا آغاز ہوا جس میں مختلف یونٹس کے مسائل زیر بحث ائے، یونٹس نے اپنے اپنے مسائل پر برملا اظہار خیال کیا، اور اختتام اجلاس پر حاجی نواز رضا اور علاؤالدین خانزادہ نے یونین کے آئین کے حوالہ جات دیتے ہوئے مسائل خوش اسلوبی سے حل کر دئیے، اجلاس کے اختتام پر ایف ای سی کے شرکاء اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں اسلام آباد کی قد آور کاروباری شخصیت ظفر بختاوری کی دعوت پر عشائیہ میں شریک ہوئے، شرکاء سے اپنے خطاب میں ظفر بختاوری صاحب نے دانشورانہ پیرائے میں ملکی معیشت کی موجودہ صورت حال اور پاکستان کے پر امید مستقبل پر گفتگو کی، اس موقع پر اسلام آباد چمبر آف کامرس کی صدارت کے امیدوار ناصر منصور قریشی نے کہا کہ کسی بھی پاکستانی کو پاکستان کے مستقبل سے نا امید نہیں ہونا چاہیے, پاکستان کو اگرچہ شدید مسائل کا سامنا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بہترین مواقع بھی موجود ہیں،

پی ایف یو جے دستور کے صدر حاجی نواز رضا نے کہا کہ ظفر بختاوری صاحب وہ شخصیت ہیں جو کہ پاکستان کے بڑے صحافیوں سے قریبی تعلق رکھتے ہیں اور صحافت کو اتنا قریب سے دیکھا ہے کہ بہت سے صحافیوں سے زیادہ صحافتی اسلوب سے آشنا ہیں، ایف ای سی اجلاس کے آخری دن اسلام آباد کے سابق ڈپٹی مئیر ذیشان نقوی نے پی ایف یو جے دستور کے پاکستان بھر سے آئے شرکاء کے اعزاز میں شاہ اللہ دتہ میں ظہرانہ دیا، اس موقع پر وہ اپنے مہمانوں سے فرداً فرداً ملتے رہے اور انہیں اپنے علاقے کے قدیم تاریخی ورثہ کے متعلق معلومات فراہم کیں، اس موقع پر تاریخ سے آشنا اسلام آباد کے سینئر صحافی سجاد اظہر نے شرکاء کو خطہ پوٹھوار کی تاریخ سے آگاہ کیا اور شاہ اللہ دتہ کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی۔ ظہرانہ کے بعد پی ایف یو جے دستور کے صدر نے ایف ای سی اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا۔

