سانحہ پریٹ آبادپرحیدر آباد انتظامیہ کے خلاف ایکشن لیاجائے آرمی چیف اور اعلی عدلیہ سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں ایم کیو ایم
حیدرآباد(گردوپیش
ایم کیو ایم پاکستان حیدر آباد کے اراکین اسمبلی سید وسیم حسین ،پروفیسر عبدالعلیم خانزادہ ،راشد خان اور ناصرحسین قریشی نے کہاکہ ہے کہ سانحہ پریٹ آبادکےذمداران کےخلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور متاثرین کو مالی امداد کی جائے، انہوں نے مطالبہ کیاہے کہ سانحہ پریٹ آباد میں شہید اور زخمی ہونے والے لوگوںکو فوری طور ریلف دی جائے اورحیدر آباد انتظامیہ کیخلاف ایکشن لیاجائے،انہوں نے کہاکہ آرمی چیف اور اعلیٰ عدلیہ اس واقع کی تحقیقات کرے،
انہوں نے کہاکہ
ہم کس کے ہاتھوں میں ان کا لہو تلاش کریں کس کی وجہ سے یہ واقعہ رونماء ہوا،انہوں نے کہاکہ پریٹ آباد کا جو فائر اسٹیشن تھا اسے مئیر کاشف شورو نے بند کیااس اقدام پر وہ مجرم ہیں اس واقعہ پر ان پر ایف آئی آر درج کی جائی،انہوں نے کہاکہ6 لاکھ سے زائد آبادی میں قائم فائر اسٹیشن کو بند کرنا انکی تعصبانہ طرز سیاست کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ
برنس وارڈ میں ایک ارب کا بجٹ ہے وہاں ائیر کنڈیشن نہیں چل رہے,سندھ حکومت اربوں کا بجٹ صرف اپنی عیاشی میں خرچ کررہی ہے۔
وزیراعلی سندھ اعلان کرتے ہیں کہ خاتون کا انتقال ہوگیا ان کو ٹھیک سے اطلاع تک نہیں تھی یہ لاپرواہی کی حالت اور سندھ حکومت۔انہوں نے کہاکہ سلنڈر کی معیاد ختم ہوجاتی ہے وہ چل رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں, انہوں نے کہاکہ اگر وزیر اعلی کو نوٹس لینا ہے تو مئیر حیدر آباد کو فارغ کریں, انہوں نے کہاکہ وزیر اعلی سندھ سانحہ پریٹ آباد کے زخمیوں کو 30لاکھ اور شہید ہونے والوں کےلئے 50لاکھ کا فوری اعلان کریں۔انہوں نے کہاکہ سانحہ پریٹ آباد انسانوں کا قتل ہے ہم اسکی بھر پور مزمت کرتے ہیں اور اگر پیپلز پارٹی نے اپنی طرز سیاست تبدیل نہیں تو ہم پھر روڈ کی سیاست کرنے پر مجبور ہونگے۔

