کالم

اف یہ مہنگائی
لالہ مرزاخان
ملک میں اس وقت بد ترین معاشی بحران ہے مہنگائی نے غریب عوام کاجینامشکل کردیا ہے،بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت میں اضافے کے باعث مڈل کلاس مسلسل سمٹنے لگیں ہیں اورسفیدپوش طبقے کے مزید 9 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں،دوسری جانب بڑھتی ہو ئی مہنگا ئی کے باعث انسانی المیہ جنم لے رہاہے انسانی عقل اس غضب ناک مہنگائی کے آگے بے ہو گئی ہے، ہارنے لگی ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے جس سے مہنگائی میں دن بدن مزید اضافہ ہوتاجارہا ہے،خود کو زندہ رکھنے کیلئے خواتین اپنے زیورات بیچنے پر مجبور ہیں جبکہ اس غضب ناک مہنگائی کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے پر مجبور ہیں جوکہ ایک بہت بڑا المیہ ہے،ایک جانب جہاں حکمرانوں کی نااہلی کے باعث مہنگائی نے ڈیرے جمارکھے ہیں تودوسری جانب ترقیاتی اخراجات میں کمی آرہی ہے گھروں کی تعمیربند ہو گئی ہے جس سے بڑی تعدادمیں روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والوں مزدوروں کا کام سخت متاثرہو رہا ہے،لوگ دو وقت کی روٹی کوترس گئے ہیں اوریہ سوچنے پر مجبورہیں کہ بچوں کو تعلیم دیں یاں پھراپنا پیت پالیں جبکہ اب تومہنگائی نے اس قدر پریشان کیاہوا ہے کہ پیٹ بھی پالانہیں جا رہا ہے تعلیم تودور کی بات ہے پہلے توچلوسرکاری اداروں میں تعلیم نام کی کوئی کرن تھی لیکن اب توبالکل سرکاری تعلیمی اداروں کا براحال ہواہے اورلوگ بچوں کو پراویٹ اسکولوں میں بچوں کو تعلیم دینے پرمجبور ہیں،
معاشی ماہرین مہنگائی کا ذمدار اتحادی یعنی PDMحکومت کو ٹھرا رہے ہیں جن کے 16ماہ حکمرانی کے دوران مہنگائی کا عذاب آیااورمہنگائی 13.4سے بڑھ کر28.3فیصدتک جا پہنچی تمام اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں دوگناہ اضافہ ہوا اور مہنگائی کی شرح میں 110فیصد سے زائد اضافہ ہوا ، ڈالر پٹرول ڈیزل بجلی اور ریلوے کے کرایوں میں بھی اضافہ ہوا یوں سمجھیں کہ مہنگائی نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے،اقتدارپرقابض ہو نے سے قبل اتحادی حکومت نے بڑے بڑے دعوے کیلئے تھے کہ انہیں اگر ایک بار حکومت دی جا ئے تووہ ملک سے مہنگای کا خاتمہ کردیں گے اوربد امنی کا تونام نشان ہی نہیں ہو گااور پی ڈی ایم حکومت باربار یہی بات کر رہی تھی کہ انکے پاس ایک افاطون ہے جسکے پاس تمام مسائل کا حل ہے جسکووہ اسحاق ڈار کے نام سے یاد کیاکرتے تھے،لیکن معاملات انکے برعکس رہے اس وقت نہ صرف ملک تاریخی مہنگائی کاسامناکر رہا ہے بلکہ بدامنی نے بھی سر اٹھایاہوا ہے روزانہ وطن عزیز میں کہیں نہ کہیں بم دہماکہ ہوتاہے اور بھاری انسانی جانوں کو نقصان ہوتاہے،اتحادی حکومت نے مہنگائی بد امنی توختم تو نہیں کی تاہم ضرور نیب کے اختیارات کو کم کیا اور اپنے مقدمات ختم کرائے اور مخالفین پرسینکڑوں مقدمات درج کرائے جس کی مثال شائدپاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہ ملے اور انکے بنائے گئے مقدمات سے آج بھی سینکڑوں سیاسی کارکنان ورہنما جیلوں میں پڑے ہی،اتحادی حکومت جہاں مہنگائی کا ذمدارہے وہاں اس نے عوامی میں پزیرائی بھی کھودی ہے عوام کی جانب سے ان پرسخت تنقید کا سامنا ہے یہی وجہ تھی کہ اتحادی یعنی PDM حکومت اپنی موجودگی میں ملک دو بڑے صوبوں پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کرانے سے ڈر رہی تھی کیونکہ انہیں شکست کا سامناتھااورآج بھی ان صوبوں میں غیرآئینی حکومتیں چل رہی ہیں،
ملک میں اس وقت نگراں حکومت ہے جس کو اتحادی یعنی PDM حکومت نے جاتے جاتے مکمل اختیادیاتھا،نگراں حکومت نے بھی آکروہی کیا ہے جوPDMحکومت انہیں کہہ کر گئی تھی اور اسی راستے پر گامزن جوکہ تباہی کاراستہ اور نگراں وزیراعظم نے آتے ہی یہی کہاتھا کہ وہ پی ڈی ایم کے منصوبوں کو آگے بڑھائیں گے اور ایسا ہی کیا وہی مقدمے وہی گرفتاریاں وہی فسادجھگڑعدالتوں کے احکامات کی خلاد ورزی کی جا رہی ہے جو کہ پہلے پی ڈی ایم دور حکومت میں ہورہا تھااور مہنگائی کی وجہ ملک میں عدم سیاسی استحکام ہے اور ایسی صورتحال میں ملک کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتاہے،اتحادی حکومت ہو یاں انکی طرف سے بنائی گئی نگراں حکومت ہو سب نے عوام کاجینا محال کردیا ہے،بڑھتی ہو ئی مہنگائی نے سب سے زیادہ تنخوادار طبقے کو لپیٹ میں لے لیا ہے اور وہ اس وقت سخت پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں،مختلف نوکری پیشہ افراد سے گفتگوکرتے ہو ئے معلوم ہواکہ ایک نوکری سے انکے گھر کا گزارہ کیسے چل سکتاہے اور وہ دو دو نوکریاں کرنے مجبور ہیں لیکن اب بھی وہ اس امید پرہیں کہ شائدملک میں کوئی ایسی فلم رلیزہا جائے جسکے باعث دوبارہ زندگی آسانی سے بسرکرسکے،لیکن انہیں معلوم نہیں کہ ایسا ہونا مشکل ہے بہت دور کی بات ہے بلکہ جس طریقے سے نگراں حکومت کام کررہی ہے اس سے تو یہ معلوم ہورہا ہے ملک میں چیزیں ارزاں ہونے کے بجا ئے مزید مہنگی ہو گی اورمہنگائی کی سونامی آنے والی ہے جو ہم سب کو بہاکرلے جا ئے گی،اس مہنگائی کا حل کیاہے،ہم مہنگائی کے اس طوفان سے کیسے بچ سکتے ہیں،اسکے لیئے تمام سیاسی جماعتوں کواپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک میزپربیٹھناہوگاتاکہ ملک میں سیاسی استحام آسکے،دوسرا آئین پاکستان پر مکمل عمل کرناہوگااور کراناہوگا،عدلیہ کے فیصلوں پرعمل کرنا ہوگا،سیاسی انتقام کے بجائے فیصلے آئین اورقانون کے مطابق کرنے ہو نگے اگر ہم نے ایسا نہیں کیاتوپھریہ وقت گزرجا ئے گا اور ہمیں اس سے بھی سنگین معاشی بحران کاسامنا ہوگا اور مہنگائی کم ہو نے کے بجائے اس سے بھی کئی گناہ بڑھ گئی ہو گی،

girdopesh

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی