ایاز لطیف پلیجو نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کے لئے الیکشن کمیشن کی 4 چار رکنی کمیٹی کومسترد کردیا
گردو پیش آن لائن قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پليجو نے سندھ میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بنديوں کے لیے الیکشن کمیشن کی 4 رکنی ڈی لمیٹیشن کمیٹی کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے فرمائش پر ڊيلميٽيشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ جس میں 2 سینئر افسران اور 2 جونیئر افسران کو شامل کیا گیا ہے۔ اعجاز چوہان کو ایم کیو ایم کے کہنے پر سندھ کا صوبائی الیکشن کمشنر بنایا جا رہا ہے جس سے سندھ کے تمام حلقوں کو خراب کرے گا اور ایک مخصوص گروپ کو فائدہ پہنچایا جاۓ گا۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد، نوابشاھ، سانگھڑ، سکھر اور میرپورخاص کے حلقوں کو خراب کر کے ایم کیو ایم کے مفاد والے حلقے بنا کر امخصوق لوگوں کو منتخب کرنے کی ھدایات کی گٸی ہیں۔ اياز لطيف پليجو نے کہا کہ اعجاز چوھان کو کراچی میں مخصوص جماعت سے کراچی کی سیٹیں لینے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ یہ سندھ دشمن معاہدے کا نتیجہ ہے، جسے سندھ کے عوام مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کے 2018 میں صوباٸی و قومی اسیمبلی کی حلقہ بندیاں توڑ مروڑ کر کی گٸیں۔ اس وقت بھی ڈیلمیٹیشن کمیٹی کے مرکزی ارکان میں مسعود احمد قریشی اور ندیم حیدر شامل تھے۔ انہیں دوبارہ ایم کیو ایم کی فرماٸش پر تعینات کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ دو جونیئر افسر شاہنواز بروہی اور نعیم الرحمن جلبانی شامل کیۓ گیۓ ہیں، جو سندھ میں من پسند مخصوص لابی کیلیۓ بناٸے جانے والی حلقہ بندیوں کو سمجھ نہیں سکے گے اور کچھ نہیں کر پاٸیں گے۔ 4 رکنی کمیٹی اسلام آباد میں بیٹھ کر ضلعی الیکشن کمشنرز سے نقشے حاصل کر کے حلقہ بندی کرے گی۔ ایاز لطیف پلیجو نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبائی اور قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کو شفاف بنیادوں پر بنایا جاۓ۔ کمیٹی میں سینئر اور تجربہ کار سندھی افسران کو بھی شامل کیا جائے، جن کو سندھ کی جغرافی معلوم ہو

