حیدرآباد گردوپیش پاک سر زمین پارٹی کے صدر انیس قائم خانی نے کہا ہے کہ عوام کے ٹیکس سے سجے ایوان میں براجمان سیاسی جماعتوں کے اقتدار کا مسئلہ ہو تو سارا دن ساری رات اسمبلیوں سے باہر نہیں نکلتے لیکن عوامی اختیارات اور مسائل حل کرنے کی بات ہو تو سالوں سال اسمبلیوں کا رخ نہیں کرتے
ناعاقبت اندیشی سیاست دانوں نے قوم کو آرٹیکل 5 تو یاد کروادیا لیکن آرٹیکل 9 سے 25 اے تک آئین پاکستان جو عوام کے حقوق کو یقینی بناتا ہے، ان شقوں کو ناصرف روز پامال کیا جاتا ہے بلکہ اس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے ملک میں صرف ایک ہی بات ہو رہی ہے کہ کون اقتدار میں آرہا ہے اور کون جا رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں صرف 500 خاندان ہیں جن میں سے کچھ پہلے اپوزیشن میں تھے وہ اب حکومت میں آگئے اور جو حکومت میں تھے وہ اب اپوزیشن میں آگئے ہیں۔ کسی کو فکر نہیں کہ عام آدمی کس عذاب سے گزر رہا ہے۔ غریب غربت کی نچلی ترین سطح پر آگیا ہے، اس کے پاس سحری اور افطاری تک کے پیسے نہیں۔ اگر اب نئے وزیراعظم شہباز شریف بھی اتحادیوں کو خوش کرنے میں لگے رہے اور آئینی اصلاحات نہیں کریں گے تو ملک نہیں چلے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں شمولیتی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اراکین سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و نیشنل کونسل بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ جبکہ پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جمہوری وطن پارٹی کے کارکنان نے بڑی تعداد میں پی ایس پی شمولیت کی۔ انیس قائم خانی نے مزید کہا کہ عوام اس پارٹی کو ووٹ دے جو آئین میں ترمیم کرا کے عوام کو با اختیار بنائے۔ سید مصطفیٰ کمال نے ملک کو صحیح سمت میں گامزن کرنے کے لیے 3 آئینی ترامیم کا مطالبہ کیا ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کو بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات سے مشروط کیا جائے۔ وزیراعظم اور وزیراعلی کی طرح میئر کے اختیارات اور ڈپارٹمنٹ بھی آئین میں درج کیے جائیں۔ این ایف سی ایوارڈ کی طرز پر پی ایف سی ایوارڈ کا اجراء یقینی بنایا جائے۔ پاک سرزمین پارٹی آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ پاک سرزمین پارٹی کی ویب سائٹ پر فارم موجود ہے ملک بھر سے جو ہمارے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑنا چاہے وہ درخواست دے سکتا ہے۔ پی ایس پی 15 مئی کو لیاقت آباد میں بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے گی تو کراچی کے سیاسی مستقبل کا تعین کردے گا۔
