امر بالمعروف جلسہ
لالہ مرزاخان کاہفتہ وار کالم
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک بہت بڑے جلسے کی کال دی تھی اورتحریک انصاف کے کارکنان سے اپیل کی تھی وہ لاکھوں کی تعداد میں اسلام کے پریڈ گراونڈ میں جمع ہوکراپوزیشن اوردیگراداروں اور عالمی طاقتوں کو دیکھائیں کہ وہ آج بھی پاکستانی عوام میںاتناہی مقبول ہے جتنا وہ (2018)یا ں اس سے قبل تھا،بالکل ایسی طرح27مارچ کو تحریک انصاف کے کارکنان نے بڑی تعداد میںاسلام آباد کا رخ کیااور بڑی تعدادمیں اسلام آباد کے پریڈ گرونڈ میں پہنچ کر دنیا اوراپوزیشن کو بتادیاکہ وہ آج بھی عمران خان سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں اور اسکی حکومت کے اور اسکی پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں،بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جلسے میں چونکہ دس لاکھ لوگ نہیں تھے تاہم انکے گوگل کے نقشے سے یو ں معلوم ہورہا تھا کہ پریڈ گراﺅنڈ میں ایک اندازے کے مطابق دولاکھ سے زیادہ لوگ تھے،جبکہ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جلسے میں 20لاکھ افراد تھے،
اس جلسے کی تمام خوبیاں ایک طرف تاہم مجھے فہمیدہ مرزاکی تقریر نے متاثرکیاانکا ہر جملہ معنی خیز تھا،فہمیدہ مرزانے جہاں اسٹبلیشمنٹ کوپیغام دیا وہاں انہوں نے پیپلزپارٹی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا،فمہیدہ مرزانے کہا کہ اس ملک سے لوٹا کریسی کا خاتمہ ہونا چاہئے اسی لوٹاکریسی نے محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا جو آج موجودہ حکومت کے ساتھ ہورہا ہے،انہوں نے کہا کہ اگرآج اس سسٹم کو ڈی ریل کیاگیا توپھریاد رکھیں کوئی حکومت اپناٹرم پو را نہیں کرسکے گی،انہوں نے چھپے لفظوں میں کہاکہ یہ کیسا ضمیربھائی ہے جوپیسوںسے جاگتاہے اور ایسے وقت پر جاگتاہے،فہمیدہ مرزانے سندھ حکومت پر تیروں کے نشتربرساتے ہو ئے کہا کہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت گزشتہ 14سالوں سے سندھ کی عوام کو صاف پانی نہیںدے سکے ہے اورچلی ہے ملک پر حکمرانی کرنے، سندھ کے لوگ بلوچستان کے لوگوںسے زیادہ احساس محرومی کاشکار ہیں،جب کے پی کے اورپنجاب کے لوگوں کو صحت کارڈ مل سکتا ہے تو سندھ کے لوگوں کو کیوں نہیںمل سکتا،حقیقت میں سندھ حکومت ہی صحت کارڈ کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے،سندھ کے لوگ زیادہ بیماریوںکوفیس کررہے ہیں اگرانہیں صحت کارڈ مل جاتا تو انہیں بڑی سہولت مل جاتی،انہوں نے کہا کہ گزشتہ 14سالوں سے سندھ کے لوگوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑاہوا ہے سندھ میں سویلین ڈکیٹرشب ہے سندھ حکومت سلیکٹڈہے یہاں بیروزگاری ہے اور لوگ نشے کے عادی بنتے جا رہے ہیں،تعلیم کا برا حال ہے،
فمہیدہ مرزا کی تقریر یقینا متاثر کن تھی کیونکہ انہیں علم تھا کہ سندھ کی عوام گزشتہ 14سالوں سے غلامی کی چکی میں پیس رہی ہے،فہمیدہ مرزاکی پوری تقریر معنی خیز تھی،جبکہ دیگرتمام مقررین جلسے کی تعریفوں میں لگے ہوئے تھے، اگرہم سندھ کے حالات پر نظر ڈال جائے تو یقینا اس میں ہمیں فہمیدہ مرزاکی پو ری تقریر کا عکس نظرآتا ہے،بلکہ اس سے بھی زیادہ سندھ کی حالت خراب ہیں جبکہ اگر دیکھاجا ئے توسندھ ملک کا وہ زرخیزصوبہ ہے جوکہ قدرتی گیس،تیل کے زخائرسے مالامال ہے18ویں ترمیم کے بعد یہاں تمام صوبے خود مختیار ہیں،لیکن اسکے باوجود بھی یہاں کے لوگ ملک کے پسماندہ صوبے بلوچستان کے لوگوں سے بھی بد تر زندگی بسرکر رہے ہیں،اس بات میں کو ئی دو رائے نہیں ہیں کہ یہاں صحت کیلئے ہسپتال تو ہیں پھروہ این جی اوز کے تعاون سے بنے ہوں یاں سندھ سرکاراور وفاقی سرکاری کے تعاون سے ہوں،لیکن اس میں سب سے غلط بات یہ ہے کہ ان ہسپتالوں میں رشوت سفارش کا کلچر عام ہے،جہاں ڈاکٹر سفارش سے بھرتی ہوتے ہیں وہاںان سرکاری ہسپتالوں میں کام بھی سفارش سے کیاجا تاہے،ویسے توسرکاری ہسپتال غریب عوام کی سہولت کیلئے بنائے جاتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان ہسپتالوں سے غریبوں کو کوئی فائدہ نہیںملتاہے،دوسراذکر فہمیدہ مرزا صاحبہ نے صاف پانی کابھی کیا اس بات میں بھی کو ئی شک نہیں کہ سندھ کے لوگ زہریلاپانی استعمال کرتے ہیں،یہ میں نہیں کہتااور یہ فہمیدہ مرزانہیں کہتی بلکہ یہ توسپریم کورٹ کے بنائے گئے واٹر کمیشن کی رپورٹ تھی جنہوں نے اپنی رپورٹ میں کہاتھا کہ سندھ کے 80فیصد لوگ زہریلا پانی استعمال کرتے ہیں جس کے باعث خطرناک بیماریاں جنم لیتی ہے جس میں ہیپاٹائٹس BاورCسر فہرست ہے،اسی طرح فہمیدہ مرزانے ایک اورجانب بھی اشارہ کیا اور وہ مسئلہ سندھ میں منشیات فروشی اور اسکے استعمال کا ہے،تو اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیںہیں کہ سندھ میں منشیات فروشی کاکاروبار عروج پرہے اورمنشیات فروشوں نے لوگوں سے جینے کا حق چھین لیاہے،اس کھیل میں سندھ کے باثر لوگ ملوث ہیں گھٹکا ،مین پوری ،ہیروئن ،آفیئم ،چرس،کچی شراب ،سمیت دیگر نشہ آور اشیاءکا کاروبار عروج پرہے اور اس دھندے سے پولیس اسٹیشن آباد ہیں،سندھ میں باقائدہ منشیات فروشی کے خلا ف تحریکیں چل رہی ہیں، تواصل میں جو بات آپ سے کرنا چاہتاتھاوہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی ہو یا ں مسلم لیگ (ن) یہ وہ لوگ ہیں جو گزشتہ تین دھائیوں سے ملک پر حکمرانی کر چکے ہیں،بلکہ پیپلزپارٹی تو14سالوں سے سندھ پر حکومت کررہی ہے جب وہ سندھ کے لوگوں کی تقدید نہیں بدل سکی توانکے پاس اب کہاں سے الادین کا چراغ آئے گا کہ وہ ملک کے حالات بدل دیں گے،موجودہ اپوزیشن میں جتنی جماعتیں ہیں یہ لوگ کئی بار ملک پریاتوخود حکمرانی کرچکے ہیں یا کسی کے اتحادی رہے ہیں،عمران خان کا جلسہ بڑاہو یاں چھوٹا یہ ایک الگ بات ہے لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس حکومت کے دور میں آزاد خارجہ پالیسی رہی جو کہ بیرونی قوتوں کوپسند نہیں آئی ،جسکا ذکر عمران خان نے جلسے میں بھی کیا اورایک خط بھی جلسے میں لہرایا کہ یہ وہ مراسلہ ہے جس میں انہیں دہمکی دی گئی ہے کہ اگر عمران خان کو راستے سے نہیں ہٹایا گیاتو خدا ناخواستہ ملک کو سنگین حالات سے گزرنا پڑیگا ،عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اس خط کا تعلق بھی عدم اعتماد سے جوڑاہوا ہے،یہ الگ بات ہے کہ ادارے اس بات کوسنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں کیونکہ یہ بات عمران خان ایسی موقع پر کررہا ہے جب انکی حکومت کے خلا ف تحریک عدم اعتماد لائی جا رہی ہے،اگر وہ اس بات کا ذکر کسی اور موقع پر کرتے تویقینا میڈیا اور دیگر ادارے اس کو سنجیدگی سے لیتے،تاہم اللہ ہما رے ملک پر رحم کرے اگر یہ بات درست نکلتی ہے تویہ بڑی خطرناک بات ہے،اسلام آبادکے پریڈ گراﺅنڈ میں ہو نے والے جلسے امربالمعروف میں لوگ کم ہو یا زیادہ ہوں یہ ایک الگ بات ہے لیکن اس جلسے کے بعد حالات نے دوسرارخ اختیارکرلیا ہے،
