کالم

دریائے سندھ پر کنال اور پیپلزپارٹی کاموقف لالہ مرزاخان


گھوٹکی سندھ کا آخری ضلع ھے،جو کہ صوبہ پنجاب کے سنگم پر واقع ھے، اس شہر سے میری کافی یادیں وابستہ ہیں 1993/94 کا قصہ ھے ایک خاتون کو کچھ لوگ زبردستی لیکر جانا چاہتے تھے خاتون انکے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی سخت پریشان کرنے پر خاتون نے موقع پاکر گاؤں سے شہر کی طرف رخ کیا اور اس خاتون نے دوپہر کے وقت شہر پہنچ کر ایک مولوی صاحب کے گھر پناہ لی اور کہاکہ خدا کیلئے مولوی صاحب مجھے بچائیں کچھ لوگ مجھے زبردستی اغوا کرکے اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں،
مولوی کچھ دیر خاموش رہا بعد میں مولوی صاحب نے ہاں میں سر ہلایا خاتونِ نے سکھ کا سانس لیا کہ چلو جان تو بچ گئی، جب مولوی صاحب گھر سے باہر نکلا کیا دیکھا چند لوگ ہاتھوں میں کلہاڑیاں لیکر کھڑے ہیں اور ان میں سے ایک شخص نے غضب ناک انداز میں اور بلند آواز میں مولوی کو مخاطب کرتے ہوئے دہمکی دی کہ مولوی صاحب ہماری ایک خاتون کو آپ نے اپنے گھر میں تحفظ دیا ھے اب نتائج کیلئے تیار رہنا اور اس دوران اس نے اپنی کلہاڑی شولڈر سے اتاری ،مولوی صاحب کو یہ اندازہ ہرگز نہیں تھاکہ معاملہ اتنا سخت ہوگا اور مجھے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا،
مولوی نے غضب ناک شخص کی جانب دیکھا اور معزرت خوانہ انداز میں کہاکہ جناب مینے ایسا ہر گز نہیں کیاھے جناب میری جان بخشی کریں میں ایک ترکیب بتاتا ہوں آپ ایسا ہی کریں میں بھی بچ جاؤں گا آپکا کام بھی ہو جائے گا، باہر موجود غضب ناک شخص نے دو بارہ مخاطب ہوکر کہا جلدی بتائیں ورنہ آپکی خیر نہیں مولوی صاحب،
مولوی صاحب نے ان سے کہا کہ جناب اس وقت آذان کا وقت ہو رہا ھے میں مسجد میں آذان دینے جارہاہوں آپ میرے گھر میں گھس کر خاتون کو اٹھا کر لے جائیں، مولوی کے گھر کے باہر کھڑے تمام افراد نے مولوی کی بات پر اتفاق کیا اور حامی بھری، مولوی صاحب مسجد پہنچ گئے آذان شروع کی وہ ظالم گھر میں گھس گئے اور خاتون کو زبر دستی اٹھایا اور گھسیٹتے ہوئے لے جارہے تھے خاتون رو رو کر چیخیں مار رہی تھی وہ ظالم اس کو اٹھاکر لے جارہے تھے اور مولوی صاحب مسجد میں آذان دے رہا تھا ، آذان ختم ہوئی مولوی صاحب اپنے گھر تشریف لے آئے اہلخانہ نے نم آنکھوں سے سوال کیا جناب آپ آذان دینے چلے گئے تھے کچھ لوگ اس خاتون کو زبردستی اٹھاکر لے گئے اور بیچاری چیخیں مارتی رہی ،یہی صورتحال سندھ میں بھی ھے، سندھ میں قوم پرست جماعتوں سمیت تمام سیاسی جماعتیں وکلاء صحافی سماجی تنظیموں سمیت تمام زبانیں بولنے والے افراد ایک زبان ہوکر سراپا احتجاج ہیں کہ دریائےسندھ پر متوقع تعمیر ہونے والی 6 متنازع نہروں کا منصوبہ فوری طور ختم کیاجائے اس منصوبے سے سندھ میں مزید پانی کی قیلت پیدا ھوگی، جبکہ حیران کن بات یہ ھے کہ پیپلز پارٹی نے یہاں جو موقف اختیار کیا ہے ھے وہ اس مولوی والو ھے ایک طرف خاتون کو تحفظ دیا دوسری جانب ظالموں کو اجازت دی کہ میں آذان دے رہا ہوں آپ خاتون کو اٹھاکر لے جائیں، گزشتہ دنوں 18 اپریل کو پاکستان پیپلزپارٹی کا حیدرآباد میں جلسہ تھا اور تعجب کی بات یہ تھی کہ یہ جلسہ بھی ان 6 متنازعہ کنال کے خلاف تھا جن کنال پر پورا سندھ سراپا احتجاج ھے،
پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس عوامی جلسے سے خطاب میں کہاکہ وہ اور انکی پارٹی دریائے سندھ پر تعمیر ہونے والے 6 متنازعہ کنال کے خلاف ھے،اگر انہیں یہ جوائس دی جائے کہ انہیں وفاقی حکومت کے ساتھ چلنا پسند ھے یا عوام تو وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہونگے،اور انہوں نے اعلان کیا کہ اگر وفاق ان 6 متنازعہ کنال کے منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹا تو انکا اگلا جلسہ سکھر میں 25 اپریل کو ہوگا ،اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ھے کہ کیا سندھ حکومت کے اجازت اور صدر مملکت محترم آصف علی زرداری صاحب کے حکم کے بغیر بھی یہ منصوبہ تعمیر ہو سکتا چھے؟ اگر انہیں تو دیگر جماعتوں کا شور تو سمجھ میں آتاھے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کا احتجاج سمجھ سے بالا تر ھے ، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم آذان دیتے رہیں گے آپ اپنا کام کرتے جائیں ،

girdopesh

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی