سندھ کاقدیمی دارلخلافہ منصورہ / برہمن آباد
منصورہ صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑکے چھوٹے قصبے شہدادپورسے تقریباٗ 13کلومیٹر کے فاصلے پرواقعہ ہے،یہ شہر قدیم ترین عرب شہرکی باقیات کی نمائندگی کرتے ہیں جسے ایک عرب گورنرحکم بن عوانہ اورڈپٹی گورنر عمرو بن محمد بن قاسم نے 110/728کے درمیان کسی زمانے میں پایاتھا اوراسکا نام منصورہ رکھاتھا،عمرو مشہور جنرل محمد بن قاسم کا بیٹاتھا قاسم جس نے اس سے قبل 93/712میں سندھ اور ملتان کو فتح کیاتھا،18نومبر2023 کوسندھ حکومت کی جانب سے منصورہ برہمن آبادمیں ہیری ٹیج کا نفرنس برہمن آباد کاکے نام سے انعقادکیاگیا تھایہ کانفرنس منصورہ میں ٹھیک اس جگہ رکھی گئی تھی جہاں 1976/77میں ماہر آثارقدیمہ اے حلیم صاحب اوراسکی ٹیم نے کھدائی کے دوران یہاں مسجد دریافت کی تھی، کانفرنس کے دوران سندھ کے نامور کالم نویس ارباب نیک محمد نے اعتراض اٹھایاکہ جس جگہ برہمن آباد کے نام سے یہ پروگرام ہو رہا ہے یہ برہمن آباد نہیں بلکہ منصورہ ہے جبکہ براہمن آبادیہاں سے ٹھیک چند کلومیٹر کے فاصلے پرہے،تاہم منتظمین نے ارباب نیک محمد کی یہ بات سنیں بغیرانہیں دھکے دیکرپروگرام سے باہرنکال دیاتھا ارباب نیک محمدنامور صحافی کالم نویس محقق ہے،اس عمل کے بعدلوگوں کا سخت ردعمل آیا اور کانفرنس پرسخت تنقید کی جارہی ہے، براہمن آباد کے نام سے منصوب بورڈ اہل علاقہ یا شرپسندوں نے توڑ دیئے ہیں،اس بات کے تہہ تک پہنچنے کیلئے میں نے اپنا قلم اور پرانا بیگ اٹھایااور منصورہ یا برہمن آباد کارخ کیااورحقائق معلوم کرنے کی کوش کی ہے۔

عاطف علی شیخ کاتعق ٹنڈوآدم سے ہے اورگزشتہ دودھائیوں سے منصورہ یا برہمن آبادپرتحقیق کررہے ہیں،انکے پاس منصورہ کے متعلق بہت معلومات ہیں کتابیں ہیں،تاریخی سکے،منصورہ کے متعلق نقشے موجود ہیں، میں اسکے پاس پہنچااور بات کی تہہ تک پہنچنے کیلئے معلومات لینے کی کوشش کی،
عاطف علی شیخ کا کہنا ہے کہ منصورہ اور برہمن آباد دو الگ الگ شہر ہیں اور الگ الگ آبادہے لیکن انکادرمیانی فاصلہ کم اس لیئے الجھن ہے،ان کا کہناہے کہ جب ہم تاریخ پرنظرڈالتے ہیں اورمختلف تاریخی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب سب سے پہلے محمدبن قاسم نے پڑاوڈالا تو اس جگاکانام جلوانی ہے وہا نہر تھی، ڈیپر گنگرو جوکہ چند کلومیٹرکے فاصلے پر ہے اس مقام کومیجرجنرل ہیگ نے 1877میں جب مہران ندی کا سروے کیاتھا اس کے مطابق یہ جگہ برہمن آباد ہے،منصورہ جوکہ برہمن آبادسے،بلازری کے مطابق منصورہ مزکورہ مقام سے 7/8کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سے اب منصورہ کے آثار بھی ملے ہیں،چچ نامے سے بھی معلوم ہوتاہے کہ جب راجہ چچ نے برہمن آباد کو فتح کیاتوانہوں نے اسٹوپاکی جانب پیش قدمی کی جسکا بادشاہ آپروہت لوہانہ تھا جوکہ اسکا دوست بھی تھا،چچ نامے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسٹوپا برہمن آباد سے دورتھا جہاں اب منصورہ کے آثارملے ہیں،انہوں نے سوال اٹھا یاکہ اگرچند دوستوں کا یہ مانناہے کہ جہاں سے منصورہ کے آثار ملے ہیں یہ برہمن آبادہے تو پھروہ یہ بتائیں کہ وہ اسٹوپاکہاں ہے؟
اوراگر جس جگہ اسٹوپاہے اور یہ مانتے ہیں کہ یہ اسٹوپاہے تو پھر یہ برہمن آباد نہیں منصورہ ہے،انکا کہنا ہے کہ راجہ چچ نے جب بد ست کے روحانی پیشوا آپروہت لوہانہ سے ملاقات کی اورانہیں کہا کہ وہ انکے ساتھ برہمن آباد کے قلعہ واپس آ جائیں انہیں کوئی اچھا عہدہ دیاجائے گا جس پر بادشاہ پروہت جوکہ بدست تھا نے جانے سے انکار کیااورراجہ چچ کو گزارش پیش کی کہ وہ مقدس مقام اسٹوپاکی از سر نو مرمت کریں کیونکہ وہ خستہ حالی کا شکار تھا،انہوں نے کہاکہ ہنری کرنس نے جو کھدائی کی اس دوران انہیں وہ اینٹیں اور مواد ملاجواسٹوپامیں استعمال کیاجاتاہے اوریہی مواد میرپور خاص اور موہن جودڑوکے اسٹوپامیں بھی استعمال کیاگیا ہے اورملاہے،اسکے بعد وفاقی حکومت کے ماتحت ٹیم نے جو کھدائی کی اس دوران بھی جو مواد ملا وہ بھی نیشنل میوزم کراچی میں رکھا ہواہے اور یہ بات بالکل واضع ہے کہ مسجد بالکل اسٹوپاکی باقیات پرتعمیرہے،
(منصورہ یا برہمن آباد کے غرق ہونے کے سوال پر)عاطف علی شیخ نے کہا کہ کئی ماہرین آثارقدیمہ نے اپنی اپنی رائے پیش کی ہے،کچھہ کے مطابق یہ شہر قدرتی آفات کی وجہ سے تباہ ہوا ہے، جیساکہ زلزلہ،یا دریانے اپنا رخ موڑ لیاہو جسکے باعث یہ شہرتباہ ہوگیاتھا،جبکہ کئی آثار قدیمہ کے ماہرین کاکہنا ہے کہ اس شہر کو منگول جوکہ تاتاری تھے نے اس شہر پر حملہ آوار ہو ئے اورتباہ کیا،جبکہ کچھ کاکہنا تھا کہ محمود غزنوی نے ملتان سے واپسی پراس شہرپر حملہ کیا،جبکہ محمود غزنوی نے اس شہر کو تباہ نہیں کیاتھا بلکہ رعرب حکومت کا خاتمہ کیا تھاچونکہ یہاں اسماعیلی عقائد فکرکے لوگوں کی حکومت قائم تھی،محمود غزنوی نے منصورہ کو اپنی سلطنت میں شامل کرکے منصورہ میں اپنا امیر مقررکیا تھااوریہاں سے چلے گئے تھے،
عاطف علی شیخ نے کہا کہ سب سے پہلے جس ماہرآثار قدیمہ نے کھدائی کی وہ 1854میں ماہر آثار قدیمہ بیلاس نے کی تھی جس کو ہم سائنسی کھدائی نہیں کہہ سکتے ہیں،کیونکہ انہوں نے خود اعطراف کیاہے کہ انہوں نے کھدائی کے دوران پہوڑے اوردنداری بیلچے کا استعمال کیاتھاپہوڑااوربیلچہ کھدائی میں استعمال نہیں کیاجسکتاہے،بیلاس نے جو نوادرات جمع کیلئے تھے انہیں برٹش میوزم بھیج دیاتھاجو آج بھی وہاں موجود ہیں،اسکے باوجود جو بھی سکے انہیں وہاں سے ملے ہیں وہ تمام اسلامی دور حکومت سے تعلق رکھتے ہیں،
اسکے بعد ہنڈری نے 1906میں کھدائی کے دروان تین چھوٹی اور ایک بڑی مسجد دریافت کی تھی،ہنڈری بھی اپنی کتاب میں یہی زکر کرتاہے کہ انہوں نے کھدائی میں پہوڑے دنداری اور بیلچے کا استعمال کیاہے،
1966میں ڈاکٹر ایف اے خان نے منصورہ کے مختلف مقامت میں کھدائی کی،آخری بار وقاسم علی قاسم نے یہاں کھدائی کی اسکے بعد اس طرف کسی نے رخ نہیں کیا ہے،حالیہ دور میں منصورہ یا برہمن آبد میں ایک چھوٹا سامیوزم تعمیر کیاگیا ہے جس کو مزید بہترکرنے کی ضرورت ہے،ان کاکہناہے کہ باب طوران،باب،ملتان،ھاوس نمبر 2ھاوس نمبر 4سمیت تمام دریافت شدہ مواد کے سائن بورڈ یہاں موجود ہونے چاہئے،یا جونقشہ ہنڈری نے بنایاتھا ایسے ایک نقشے کا سائن بورڈ بھی آثار پرلگائے جائیں تاکہ آنے والے ویزٹر کو ویزٹ کرنے میں آسانیاں ہوں،عاطف علی شیخ نے بتایا کہ اس تاریخی مقام منصورہ یا برہمن آباد کے ساتھ بڑی زیادتی کی گئی ہے اسکے زمینوں کے جعلی کھاتے بناکریہاں لوگوں کو زمینیں الاٹ کیئے گئے ہیں اور آثار کے اپر پورے گاوٗں آباد ہیں مویشیوں کواس تاریخی مقام میں چھوڑ دیا جاتاہے جس سے اس تاریخی مقام کی تباہی سب کے سامنے ہے،

