سندھ میں پیپلز پارٹی کے زوال کا وقت قریب آ چکا ہے،صوبے میں بڑی سیاسی تبدیلی ناگزیر ہے ، سید راشد شاہ راشدی
ٹنڈوآدم (رپورٹ عمر فاروق قریشی) پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی رہنما سید راشد شاہ راشدی نے کہا ہے کہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ لاقانو نیت زوال کا وقت قریب آ چکا ہے اور صوبے میں بڑی سیاسی تبدیلی ناگزیر ہو گئی ہے، پیپلز پارٹی کے آدھے سے زیادہ اراکینِ اسمبلی اور کئی اہم سیاسی شخصیات مسلسل رابطے میں ہیں، کیونکہ پیپلز پارٹی کے اندر خوف، دباؤ اور بے اختیاری کا ماحول قائم ہے۔
ایسا اظہار انہوں نے ٹنڈوآدم میں فنکشنل لیگ رھنما رئیس حبیب خان مری کے والد کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابق ایم این اے محمد خان جونیجو، سابق ایم پی اے محمد بخش خاصخیلی، معظم عباسی اور دیگر بھی ان کے ھمراہ تھے۔
سید راشد شاہ راشدی نے کہا کہ سیاست میں برداشت، اصول اور عوامی خدمت ہونی چاہیے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حکمران جماعت نے خوف اور دباؤ کی سیاست کو فروغ دیا ھوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں اس وقت جیل جیسا ماحول ہے، جہاں اراکینِ اسمبلی آزادانہ فیصلے کرنے سے بھی محروم ہیں۔
سانگھڑ ضلع میں آئل اینڈ گیس رائلٹی، فنکشنل لیگ ایم پی اے اور ترقیاتی کام کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایک یونین کونسل ناظم، ایک ایم پی اے سے زیادہ بااختیار ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس ترقیاتی فنڈ، دفتر اور عملی اختیارات موجود ہوتے ہیں، جبکہ ایک ایم پی اے صرف قانون سازی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں عوامی نمائندے بے اختیار ہو چکے ہیں، جو جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔
سید راشد شاہ راشدی نے کہا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں پارلیمانی میمبر کے لیے کم از کم گریجویشن کی شرط موجود تھی، جو ایک مثبت قدم تھا، مگر آج اسمبلی ممبران کے لیے کسی قسم کی تعلیمی قابلیت لازم نہیں۔ اب آپ کے فیصلے وہ کرتے ھیں جو خود پڑھے لکھے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندہ حکومت نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے انہیں اپنے ہاتھ میں رکھے ھوے ھیں مگر اب اس کا اپنا اختیار خطرے میں آگیا ہے۔
انہوں نے غیر شفاف انتخابات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آر اوز کے ذریعے ہونے والے انتخابات دراصل الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن تھے۔ پیر صاحب پگارا اور دیگر رہنما ہمیشہ ٹھپہ سسٹم اور غیر شفاف انتخابی عمل کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ کابینہ میں 80 سے 90 فیصد وزراء کرپشن میں ملوث ہیں، باقی جو بہتر لوگ ھیں وہ ھم سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کے ساتھ مسلسل ناانصافی، مہنگائی، بدانتظامی اور کرپشن نے حکمران جماعت کے خلاف نفرت پیدا کر دی ہے اور اب اس ظلم کے خاتمے کا وقت قریب ہے ,
