“کس کی جیت کس کی ہار”
(اقبال پرویز خان)
حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی ٹی آٸ اور نون لیگ کے درمیان بہت اہم سیاسی دنگل ہے جو ایک اصحاب شکن معرکہ کے طور اسے لیا جا رہا تھا ان میں دونوں پارٹیوں کے درمیان ایک ہیجانی اور نفسیاتی جنگ کی صورتحال تھی جسے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا خوب مرچ مسالہ کے ساتھ ایک سنسنی انداز میں ایک ڈراماٸ تشکیل کے طور پر پیش کر رہا تھا اس ضمنی الیکشن میں پی ٹی آٸ نے اپنے 20 منحرف ارکان کی سیٹوں کو بچانا تھا جسے نون لیگ نگل لینا چا ہتی تھی جس میں اسے محض20 فیصد کامیابی ہوٸ ہے اور وہ پی ٹی آٸ کے حلقوں سے 4 سیٹیں لینے میں کامیاب رہی جبکہ پی ٹی آٸ کو اپنی چار سیٹیں گنوانے کا قطعی طور پر غم نہیں وہ تو خوشی کی شادیانے بجا رہی ہے کہ کم از کم عزت سادات باقی رہ گٸ ورنہ نون لیگ ریاستی مشنری استمعال کر کے اسمیں اضافی جیت بھی حاصل کر سکتی تھی مگر اس نے یہ اچھی روایت قاٸم کی جو قابل ستاٸش ہے۔ الیکش کمیشن جس پر عمران مسلسل انگشت نماٸ کرتے رہے ہیں الیکشن کمیمشن نے صاف شفاف الیکشن میں ایک فیقیدالمثال کردار ادا کیا ہے جو قابل تعریف ہے اس کی کاردگی کو سرہانا ضروری ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا الیکشمن کمیشن اس پوری انتخابی عمل میں غیر جانبدار اور پروقار کردار کا حامل رہا تھوڑی بہت بدنظمی ہوٸ ہوگی کیونکہ یہ 20 حلقوں کا بہت بڑا تاریخی ضمنی الیکشن تھا عمران خان کا جارحانہ انداز خطابت جس میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اختیار کیا جس سے ووٹروں کی ذہنی سوچ کو تبدیل کرنے میں انھیں کافی حد تک کامیابی ملی پھر مہنگاہی اور پیٹرول کی قیمتوں میں بڑھتوری نے لوگوں کو موجودہ حکومت سے متنفر اور نالاں کیا جس کی وجہ سے نون لیگ پنجاب ان حلقوں میں مزید شگاف نہ ڈال سکی اور پھر نون لیگ نے جن پی ٹی آٸ کے منحرف ارکان کو ووٹ دے کر اپنے امیدواروں کو ناراض کیا اس سے بھی اس الیکشن میں ان کے اپنے لوگوں میں لاتعلقی کا رجعان پروان چڑھا جس نے نتاٸج پر اپنے اثرات مرتب کٸے پنجاب کے اس الیکشن سے نون لیگ کسی طور بھی کمزور نہیں ہوٸ وہ آپ نے الیکشن میں پڑنے والے دونوں امیدواروں جیتنے واے اور ہارنے والے ووٹوں کی تعداد سے لگایا ہوگا مسلم لیگ نون کا ووٹر اب بھی اپنی جماعت کے ساتھ کھڑا ہے اسی طرح جس طرح پی ٹی آٸ کا ووٹر متحرک ہے اب پنجاب اسمبلی میں نٸے وزیر اعلی کا انتخاب ہو گا دیکھیں پنجاب اسمبلی کے باشعور اراکان پنجاب کے چور کو ووٹ دیتے ہیں یا پنجاب کے ڈاکو کو اس کا فیصلہ اب اس بات کا فیصلہ پنجاب اسمبلی میں مستقبل ہونے والا وزیر اعلی کا چناٶ ہی کرے گا۔۔۔۔۔

