کالم

سب جان کر جیو تحریر لالہ مرزاخان

روزانہ دیکھو سماجی ویب سائیڈز پر کسی نہ کسی نوجوان نے بھوک بے روزگاری، کی وجہ سے زندگی کا خاتمہ کرلیا ھوتاھے،
گزشتہ روز فیس بک کا صفحہ لاگ آن کیا تو ایک نوجوان کی تصویر پر نظر پڑی جس کا کیپشن کچھ یوں تھاکہ
مہنگائی اور بے روزگاری اور حالات سے
تنگ آکر نوجوان نے خود کشی کرلی ھے،
ایسے واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں، ایک خاتون نے بچوں سمیت زندگی کاخاتمہ کردیاھے، گھر سے لٹکی لاش ملی ھے وغیرہ وغیرہ ، یقین مانیں سخت افسوس ھوتاھے،
ایسے نوجوانوں سے گزارش ھے کہ یہ حالات خود بخود جنم نہیں لیتے
یہ حالات ان لوگوں نے پیدا کیئے ہیں جو آپکے ووٹ سے منتخب ھوتے ہیں، آپکے ٹیکس سے اپنے بچے پالتے ہیں یہاں تک کہ میڈیا ھاوسز کو بھی جو اشتہارات جاری ھوتے ہیں وہ رقم بھی آپکے ٹیکس کی مد میں انکے پاس جاتی ھے،
جو بڑے بڑے ہسپتال تعمیر ہیں ان میں جو ڈاکٹرز کام کرتے ہیں،جو اسکول ہیں ان میں ٹیچرز پڑھاتے ہیں کالجز ہیں یونیورسٹیاں ہیں ان میں پروفیسر لیکچرار پڑھاتے ہیں انکی تنخواہیں بھی آپکے ٹیکس سے دی جاتی ہیں،
جو وزیر مشیر صدر وزیراعظم سمیت اعلیٰ قیادت جو بیرون ممالک کے دورے کرتے ہیں وہ بھی آپکے ٹیکس کے پیسوں سے سیر سپاٹے کرتے ہیں، سپریم کورٹ، ھائی کورٹس سمیت تمام کورٹس کی عمارتیں اور ان میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے ججوں کی بھاری بھاری تنخواہیں، وکیلوں کے بار اور عدالتوں کے دروازوں کے باہر کھڑے آپ کو مجرم ملزم فریادی یا جواب دار مخاطب کرکے آواز دینے والے کی تنخواہیں بھی آپکے جیبوں سے اداکی جاتی ہیں،
آپ سمجھ لیں کہ اس ملک خدا داد میں جو بھی محکمے ہیں یہ سب آپکے ٹیکس سے تعمیر کیئے گئے ہیں، ان سب پر اول حق آپکا ھے،
یہ لوگ آپ سب کو جوابدہ ہیں، یہ جو پولیس کے افسر دو دو ٹن کی اے سی میں ٹھنڈک کے مزے لوٹ رہے ھوتے ہیں انکے بچوں کا پیٹ انکے اسکول کی فیسیں ، انکے ہسپتال کا خرچ آپکے دیئے گئے ٹیکس کے پیسوں سے ادا ھوتاھے ، اگر آپ ٹیکس ادا نہ کریں تو نہ ٹرین چل سکتی ھے
نہ جہاز اڑ سکتاھے ،
نہ بجلی آسکتی ھے ،
اور نہ پولیس کا محکمہ چل سکتا ھے اور نہ ہی ہسپتال کا ایک کمرہ تعمیر ہوسکتاھے ،
یہ جو مولوی عید کے چاند نظر آنے یا نہ آنےکا اعلان کرتے ہیں انکی تنخواہیں بھی آپکے دیئے گئے ٹیکس سے ادا ھوتی ہیں،
لہذا خود کشی مت کریں خود کشی جرم اور حرام ھے،
گریبان پکڑو جو خود کے ساتھ کررہے ھو وہ ان کے ساتھ کرو جو آپکے ساتھ کررہاہے،

( سب جان کر جیو ٹی )

girdopesh

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی