کالم

کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر 11 سالہ بچی کے اغوا کا معاملہ: چند حقائق اور چند سوالات تحریر: وکیل الرحمان

سوشل میڈیا کے ذریعے اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق بچی کا نام حورم ہے، والد کا نام سعید خان اور والدہ کا نام سلمہ بتایا جا رہا ہے۔ والد کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں رہائش پذیر ہیں اور یہیں کام کرتے ہیں، جبکہ فیملی پشاور میں رہتی ہے۔
والدہ کے بیان کے مطابق ان کی بیٹی پشاور سے لاپتہ ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے شوہر کو اطلاع دی تو وہ اگلے روز پشاور پہنچ گئے۔ اسی دوران مبینہ اغوا کاروں کی جانب سے فون آیا اور 30 لاکھ روپے تاوان طلب کیا گیا۔ والدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے پشاور میں پولیس کو شکایت درج کروانے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے یہ کہہ کر رپورٹ درج نہیں کی کہ یہ ان کے علاقے کا معاملہ نہیں۔
دوسری جانب بچی کے والد سعید خان نے 8 اپریل کو اورنگی ٹاؤن میں ایف آئی آر درج کروائی۔ علاقے کے ایم پی اے کے مطابق والد نے ان سے بھی مدد کی درخواست کی تھی، تاہم ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود نہ اورنگی ٹاؤن پولیس اور نہ ہی متعلقہ سیاسی نمائندے کی جانب سے کوئی مؤثر پیش رفت سامنے آسکی۔
بچی کی والدہ کے سامنے آنے والے ویڈیو انٹرویوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دوران انہوں نے سکھر اور کشمور پولیس سے بھی مدد طلب کی، مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔ اس کے بعد، بظاہر والدین نے اپنی سمجھ کے مطابق کچھ اقدامات کیے، جن سے فائدے کے بجائے شاید مزید نقصان ہوا۔
والدہ نے کچے سے واپسی کے بعد سوشل میڈیا کا سہارا لیا، جس کے بعد یہ معاملہ عوام کے سامنے آیا اور لوگوں کو معلوم ہوا کہ گزشتہ دو ماہ سے یہ خاندان کن حالات سے گزر رہا تھا۔
سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے کے بعد دو مختلف ردعمل دیکھنے میں آئے۔ ایک جانب کچھ جذباتی افراد اس معاملے کو لسانی اور قومی بنیادوں پر متنازع بنا رہے ہیں اور ڈاکوؤں کے خلاف مسلح لشکر کشی کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگ والدین کے کردار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
اسی دوران ایک ویڈیو بھی سامنے آئی، جس میں بچی اور اس کی والدہ کو ایک بچے اور اس کے والد کے ساتھ دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ والدہ اپنی بیٹی کو رضامندی سے شادی کے لیے کچے میں لے کر گئی تھیں۔ اس ویڈیو کو بھی والدہ کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور مختلف الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
تاہم والدہ کی وضاحت بھی سامنے آچکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سے زبردستی ویڈیو بنوائی گئی۔ ان کے مطابق بچی اور مذکورہ لڑکے، دونوں کی عمریں شادی کے قابل نہیں ہیں، جبکہ اس نوعیت کی دو مزید ویڈیوز بھی بنوائی گئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ شادی جیسے موقع پر اس طرح کی ویڈیوز کون بناتا ہے؟
والدہ کے مؤقف کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ سندھ پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بچی کی بازیابی کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ اگر معاملہ صرف شادی کا ہوتا اور اس میں عام لوگ شامل ہوتے تو شاید اب تک وہ خود سامنے آجاتے، جبکہ آپریشن کی ضرورت پیش نہ آتی۔
والدین کے کردار سے متعلق مختلف سوالات اور خدشات اپنی جگہ موجود ہوسکتے ہیں، اور ممکن ہے کہ حقیقت وہ نہ ہو جو بظاہر نظر آرہی ہے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ 11 سالہ حورم کی بازیابی سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ والدین کا کردار، ان کی غلطیاں یا کوتاہیاں بعد میں بھی زیر بحث آسکتی ہیں، اور یقیناً آنی چاہییں، مگر اس وقت تمام توجہ صرف بچی کی بحفاظت واپسی پر مرکوز ہونی چاہیے۔
جہاں تک کچے کے ڈاکوؤں کا تعلق ہے، وہ پورے پاکستان کے لیے ایک مستقل دردِ سر بن چکے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ریاست کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ ان کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جا رہا۔
جو لوگ ڈاکوؤں کے خلاف لشکر کشی کی بات کر رہے ہیں، وہ درحقیقت اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنا پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کا کام ہے، اور یہی ادارے اس مسئلے کا حل نکالنے کے ذمہ دار ہیں، نہ کہ عام شہری۔

girdopesh

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی