فخر عالم اسلام پروفیسر خورشید احمد
تحریر عمر فاروق قریشی
پروفیسر خورشید احمد فخر عالم اسلام روشن ستارا پاکستان تھے الزامی سیاست قومی مذہبی تقسیم الزامی حکمران قدر نہ کر سکے انکی قابلیت سے فائدہ کسطرح لیتے انکو ذاتی مفادات عزیز ہیں 1991 سینٹ سے خطاب میں کہا تھا بار بار کہتے تھے جسطرح قرض لئے جارہے ہیں یہ قرض قومی مرض بن جائیگا مہنگائی بیروزگا بجلی لوڈشیڈنگ بدامنی کا طوفان اٹھے گا قوم کو بھگتنا پڑے گا کسی نے توجہ نہیں دی جماعت اسلامی کے رہنماوں کے خلاف پروپیگنڈے کرنے والے کوئی اور کے ساتھ مذہبی حلقے بھی رہے قوم مسالک لسانیت کی محبت میں تقسیم رہی جبکہ دیانتدار قابلیت عملیت کردار جماعت اسلامی ایک روشن قابل قدر اور شاندار مثالی رہا ہے

سپریم کورٹ بھی گواہی دینے پر مجبور رہی بس قوم ہی نہیں سمجھ پاتی ہے جماعت اسلامی امت رسول ﷺ میں اتفاق اتحاد اقامت پر یقین رکھتی ہے الزامی تفریقی حلقے کسطرح برداشت کر سکتے ہیں انکی تجارت ختم ہو جائیگی میئر کراچی عبدالستار افغان کی فیملی اج بھی لیاری میں 60 گز کے فلیٹ میں رہائش کر رہی ہے پروفیسر خورشید پروفیسر عبدالغفور احمد میاں طفیل احمد قاضی حسین احمد سراج الحق سید منور حسین سابقہ سینیٹر مشتاق احمد حافظ نعیم الرحمن کتنے نام بتاوں لیکن قوم دیکھ کر گمراہ ہے بھگت رہی ہے سمجھ نہیں رہی ہے جماعت اسلامی کے سیاسی فیصلوں پر الزام لگانے والوں کو قوم دیکھے سمجھے انکے دامن میں کتنے چھید ہیں یہ کسطرح کا کردار رکھتے ہیں انکے اثاثے انکی عیاشیاں بدماشیاں کیا ہیں ایسے سیاستدانوں ممبران اسمبلیوں کی تعریف کرنے والوں کے کردار کو بھی سمجھنا ہوگا جماعت اسلامی کا موقف رہا ہے
چہرے نہیں نظام کو بدلو جسکی چکی میں ملک و قوم کی حالت سامنے ہے جنکی سیاست تجارت ہے وہ طاقتور سرمایہ دار ہیں انکا کردار فقیری نہیں جماعت اسلامی کی تربیت سے کردار کے فقیر پیدا ہوتے ہیں اثاثوں کے بھوکے الزامی جھوٹے ظالمین ہرگز نہیں اگر کہیں دکھائی دے تو سمجھ لینا وہ غیر تربیت یافتہ اور نظریاتی نہیں صرف سیاسی ہو سکتا ہے اسپر جماعت اسلامی کے رہنماوں کو اپنے احتسابی نظام کو مزید سخت کرنے کی ضرورت رہے گی احتساب کمزور مطلب نظریہ کمزور ہوگا

