کالم

قراردادپاکستان اور نوائے وقت کے 85سال بیٹھک سعید آسی


آج 23 مارچ 2025ء کو اس ملکِ خداداد کی تشکیل کے لیے منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر منظور کی گئی 1940ءکی قرارداد اور اسی عظیم اجتماع میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر محترم حمید نظامی کی جانب سے قائداعظم محمد علی جناح کی زیرِ ہدایت نوائے وقت کے اجراءکے 85 سال مکمل ہوئے ہیں اوربے باک اور نظریاتی صحافت کے علمبردار اس قومی اخبار کے ساتھ میری ہم سفری بھی 45 ویں سال کی جانب قدم بڑھا رہی ہے تو آبرو مندی والے اس سفر کی تابناک یادوں کے در بھی وا ہوگئے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی حجاب نہیں کہ نوائے وقت میرا شعور، میرا وجدان ، میرا مان، میرا رومان اورمیرا خاندان ہے۔ اپنے صحافتی سفر کے اب تک کے 49 برس میں سے 44 برس نوائے وقت کے تناور درخت کے سائے میں گزر گئے ، کتنی آندھیاں درپیش ہوئیں، کتنے تھپیڑے آئے ، کتنے جھکڑ چلے ، کتنی مارا ماری ہوئی ، کتنی آہ وزاری ہوئی ، عزم ٹوٹا نہیں ، ساتھ چھوٹا نہیں ، نظریے کو مارنے کی تمنا رکھنے والوں نے سو جتن کئے ، اصول کو بے اصولی میں ڈھالنے والوں نے لاکھ ترغیبات دیں ، نوائے وقت کے پائے استقلال میں کوئی لغزش پیدا نہ کر سکا۔ میرا یہ خاندان باوقار رہا۔ اس کا بھرم برقرار رہا۔ کیوں؟ اس لئے کہ خاندان کی سربراہی زمانے کی اونچ نیچ میں عزت و وقار کے ساتھ سر اٹھا کر چلنے اور اپنے خاندان کی آبرو مندی قائم و برقرار رکھنے کی خدا داد صلاحیتوں سے مالا مال تھی۔ اس لئے کہ قائد اعظم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تحریک پاکستان کے نامور کارکن اور طالب علم رہنما حمید نظامی نے .23 مارچ 1940ءکو جس جذبے کے ساتھ پاکستان کا ترجمان اخبار نکالنے کا بیڑا اٹھایا تھا اور صحافتی اقدار اور اصولوں کی جو راہیں متعین کی تھیں، مرتے دم تک وہ خود بھی اس پر کاربند رہے اور پھر اس خاندان کی سربراہی کی ذمہ داری اپنے باوقار برادر خورد مجید نظامی کو سونپتے ہوئے اپنی متعین کردہ صحافتی اقدار اور اصولوں کو بھی بطورورثہ انہیں منتقل کر دیا۔ 25 فروری 1962ءسے .26 جولائی 2014ءکو اپنی وفات کے دن تک جناب مجید نظامی نے جس جذبے ، جس لگن اور جس دیانت کے ساتھ اپنے برادر بزرگ کے ودیعت کردہ ورثے کی حفاظت کی ، اسے پروان چڑھایا ، مستحکم بنایا اور پھر اس کے ساتھ وابستہ اپنے خاندان ہی نہیں ، ملک و ملت کیلئے بھی اسے ایک تناور شجرِ سایہ دار بنایا، یہ انہی کا کارنامہ ہے۔ مسابقت کی دوڑ میں اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ، جھکڑوں ، طوفانوں کا سامنا اور مقابلہ کرتے ہوئے سرخروئی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنا کوئی معمول کی اور معمولی بات نہیں۔ انہی کے دیئے ہوئے عزم نے ان کی بیٹی رمیزہ مجید نظامی کے دل میں بھی اس عزت و آبرو والے صحافتی سفر کو مزید مضبوط اور مزید مربوط بنانے کی لگن پیدا کی چنانچہ نوائے وقت گروپ کا باوقار صحافتی سفر آج بھی اسی آن ، بان ، شان سے جاری و ساری ہے اور ملک کے سرکشوں اور نظریاتی دشمنوں کے سینوں پر مونگ دلتا رہے گا۔
آج اس جہدِ مسلسل والے کٹھن سفر کے 84 سال پورے ہوئے ہیں تو اپنی ہم سفری کے 44 سال کا جائزہ لیتے ہوئے میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ میں جو سوچ کر میدان صحافت میں آیا تھا ، نوائے وقت کے شریکِ سفر نہ ہوتا تو اصولوں کی پاسداری کا شعور، شعار اور چلن کبھی نہ سیکھ پاتا اور اس خاندانِ نوائے وقت کی سربراہی جناب مجید نظامی کے پاس نہ ہوتی تو اصولوں کی پاسداری کہیں ٹامک ٹوئیاں ہی مار رہی ہوتی۔
طالب علمی کے زمانے میں ہی ادب و صحافت کی خدمت کا کیڑا میرے دماغ میں سما گیا تھا۔ گورنمنٹ کالج ساہیوال سے گریجویشن کے بعد 1974ءمیں لاہور آیا اور والد مرحوم کی خواہش کے مطابق وکالت کیلئے پنجاب یونیورسٹی لاءکالج میں داخلہ لے لیا تو بھی ادب و صحافت کی خدمت کا جذبہ ماند نہ پڑا۔ 1975ءمیں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ روزنامہ وفاق میں بطور سب ایڈیٹر کام کرنیکا موقع بھی مل گیا۔ وفاق کا دفتر مال روڈ کی شاہ دین بلڈنگ میں قائم تھا جہاں پہلے نوائے وقت کا دفتر ہوا کرتا تھا۔ اولین خواہش نوائے وقت کے پلیٹ فارم پر ہی ادب و صحافت کی خدمت کرنے کی تھی چنانچہ شاہ دین بلڈنگ میں روزنامہ وفاق میں کام کرنے کا موقع ملا تو یہ سوچ کر ہی دل کی تسکین کا اہتمام ہو گیا کہ اسی بلڈنگ میں میرا صحافتی آئیڈیل نوائے وقت بھی آسمان صحافت پر جگمگاتا رہا ہے۔ اسی عرصے کے دوران ایک رات خواب ہی خواب میں خود کو نوائے وقت کا کالم نگار پایا۔ صبح اٹھا تو حوصلہ مندی اور عزم سے سرشار تھا۔ 1977ءمیں نوائے وقت میں شمولیت کی اولین کوشش ناکام ہو گئی کہ بشیر احمد ارشد صاحب جو ہفت روزہ استقلال کی ایڈیٹری سے ہوتے ہوئے نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر کے منصب پر فائز ہوئے تھے ، وفاق میں میرے ساتھ بزرگانہ شفقت کے باوجود نوائے وقت میں شمولیت کیلئے میرے کچھ کام نہ آ سکے اور پھر 1977ءہی میں پی این اے کی تحریک کے دوران تحریک استقلال کے ترجمان کے طور پر دوبارہ جنم لینے والے روزنامہ آزاد نے مجھے ہائیکورٹ رپورٹر کے ساتھ ساتھ کالم نگار بھی بنا دیا چنانچہ میرا کالم نگار بننے کا خواب 1977ءمیں ہی پورا ہو گیا اور وہ بھی ادارتی صفحے پر لیڈنگ کالم نگار کی حیثیت سے۔ ”آزاد“ سے ”صداقت“۔ پھر وفاق میں واپسی اور پھر 1981ء میں جنگ کے لاہور سے اجراءکے ساتھ ہی ایم ارشد کی قیادت میں وفاق نیوز ڈیسک کی پوری ٹیم کے ساتھ جنگ سے وابستگی تک صحافتی سفر کے چھ سال بیت گئے۔ نوائے وقت میں پہلے ہی درخواست گزاری ہوئی تھی۔ جنگ سے وابستگی کے دو ہفتے بھی نہیں گزرے تھے کہ نوائے وقت سے تحریری بلاوا آ گیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے بھٹکتے راہی کو منزل مل گئی ہو۔ کنواں خود ہی پیاسے کے پاس آ گیا ہو۔ فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔ اپنا استعفیٰ نیوز ایڈیٹر ایم ارشد کے حوالے کیا اور علامہ اقبال روڈ پر عارضی طور پر قائم کئے گئے جنگ کے دفتر سے باہر نکل کر سیدھا نوائے وقت کے آفس میں آ کر دم لیا۔ 6 ستمبر 1981 ءکا وہ دن اور آج 23 مارچ 2025ءکا دن میرے اس عزم کی صداقت کی گواہی دے رہا ہے جو میں نے نوائے وقت کی ہمسفری میں ادب و صحافت کی خدمت کیلئے باندھا تھا۔ دل میں یہی طے کیا تھا کہ صحافت کرنی ہے تو صرف نوائے وقت کے ساتھ۔ خدا وند کریم کے حضور دعا گو ہوں کہ وہ مجھے اپنے اس عہد کے ساتھ کھڑے رہنے کی استقامت دئیے رکھے۔ صحافت کے اس خاندان کے ساتھ وابستہ رہ کر مجھے جو عزت ملی ہے۔ وہی میری زندگی کا اصل اثاثہ ہے اور آج کا دن میرے لئے فخر و سربلندی کا پیغام ہے کہ عظمت و عزیمت کی علامت نوائے وقت کے 85 ویں سال کے سفر میں مجھے بھی 44 سالہ ہمسفری کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ ان 44 برسوں پر محیط یادیں اتنی ڈھیر ساری ہیں کہ سمٹنے کیلئے چند صفحات کا نہیں ، پوری ایک کتاب کا تقاضہ کر رہی ہیں۔ بشرط زندگی یہ تقاضہ بھی ضرور پورا کروں گا۔ فی الحال صرف یہ گواہی دے رہا ہوں کہ دنیائے صحافت میں جناب مجید نظامی کے پائے کا کوئی صحافی کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گا۔ وہ صحافتی امپائر کے مالک ہی نہیں ، ایک مکمل اور بھرپور ایڈیٹر بھی تھے۔ اصولوں کے پاسدار ہی نہیں ، اپنے ساتھ وابستہ خاندان کی کفالت کیلئے کاروباری اسرار و رموز سے بھی مکمل آگاہ رہے۔ وہ فی الواقع آبروئے صحافت اور امام صحافت تھے۔ قول کے پکے اور ملک و ملت کے ساتھ خالص اور سچے۔ اپنے کام کے ساتھ ان کے اخلاص اور ذمہ دارانہ استواری کا اندازہ اس سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اپنی عمرِ عزیز کی آٹھ دہائیاں گزار کر بھی ، دل کے تین بائی پاس کرا کے بھی اور ملک و قوم کے استحکام و بقاءکیلئے مسلسل فکر مندی سے دوچار رہ کر بھی وہ باغ میں کھلے ، خوشبو دیتے پھول کی طرح تروتازہ رہے۔ کبھی تکان کا احساس نہ ہونے دیا۔ نوائے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں سے لگائے پودوں نیشن، ندائے ملت ، فیملی ، پھول اور وقت نیوز کی بھی ہمہ وقت پرورش و نگہبانی کرتے رہے اور انہیں تناور درخت بنایا۔ اپنی امپائر کے کسی ادارے کی کوئی خامی ان سے چھپی نہیں رہ سکتی تھی۔ اس لئے ان کی نگرانی میں اصلاح کا عمل بھی ساتھ ساتھ چلتا رہتا۔ نوائے وقت کے ادارتی اور نیوز کے صفحات پر شائع ہونے والے اکثر مضامین اور کالموں کی وہ روزانہ خود ایڈیٹنگ کرتے اور کم و بیش ہر کالم اور مضمون میں کوئی لفظ یا فقرہ ایسا ڈال دیتے کہ وہی ”حاصلِ غزل“ بن جاتا۔ ان کی تحریر و تقریر میں بذلہ سنجی چھلکتی اور پھڑکتی نظر آتی۔ اداریہ اور شذرات کیلئے روزانہ گائیڈ لائین دینا اور پھر پروف کی غلطیوں کی نشاندہی سمیت ان کی ایڈیٹنگ کرنا بھی انہوں نے اپنے روزانہ کے فرائض منصبی کا حصہ بنایا ہوا تھا۔ اسکے ساتھ ساتھ ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں کم و بیش روزانہ منعقد ہونے والی تقریبات میں شمولیت اور اس ادارے کی سرپرستی بھی ان کے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بن گئی ، پھر بھی شاید ہی کوئی دن ایسا ہو گا جب شعبہ ادارت کی روزانہ کی میٹنگ کی انہیں فرصت نہ ملی ہو۔ میٹنگ کے وقت کسی اور جگہ مصروف ہوتے تو دفتر سے گزرتے ہوئے بھی اداریہ اور شذرات کیلئے گائیڈ لائن دے جاتے یا کم از کم ٹیلی فون پر تو ضرور رابطہ رکھتے۔ لاہور سے باہر جاتے تو بھی ہیڈ آفس میں ان کی موجودگی کا احساس برقرار رہتا۔ شعبہ ادارت ہی نہیں ، نیوز ڈیسک ، رپورٹنگ اور میگزین سے لے کر شعبہ اکاونٹس، سرکولیشن ، اشتہارات اور پریس کی بھی خود نگرانی کرتے جو شعبہ صحافت کے ہر فیلڈ میں انکی مشاقی و مہارت کا بیّن ثبوت ہے۔ ایسی نابغہ روزگار ہستیاں کسی معاشرے کی آبرو مندی کی ضمانت اور علامت ہوا کرتی ہیں اور آبرومندی سے لبریز نوائے وقت کے 85 برس میں حمید نظامی کے سانحہ ارتحال کے بعد .25 فروری 1962ءسے 26 جولائی 2014ء ان کی رحلت کے دن تک اور اس سے پہلے چھ سات سال لندن میں اپنے اخبار کی بھرپور نمائندگی اور اس سے پہلے 1950ء سے 1954ءتک اپنے بھائی حمید نظامی مرحوم کی نگرانی میں سرراہے کا کالم اور اس سے بھی پہلے نوائے وقت جب ہفتہ وار تھا اس کی ”انتظامیہ“ میں شمولیت تک کا دورانیہ مجید نظامی کی صحافت کے کٹھن و خوشگوار ادوار کی کھلی گواہی ہے۔ ایسی نابغہ روزگار ہستیاں خال خال ہی پیدا ہوتی ہیں۔ آج کا .23 مارچ جہاں ہم سے قراردادِ لاہور کی روشنی میں قیام پاکستان کے اصل مقاصد اجاگر کرنے کا متقاضی ہے وہیں اس قرارداد کے ساتھ ہی جنم لینے والے اخبار نوائے وقت کی پیشہ صحافت میں استقامت اور سربلندی کے لئے بھی ہمیں دعاگو رہنا ہے۔ آج ملک کے کٹھن اقتصادی حالات نے جہاں برصغیر کے مسلمانوں کی خوشحالی سے متعلق قیام پاکستان کے مقاصد کو گہنایا اور پسے پسماندہ عوام الناس کو زندہ درگور کیا ہے وہیں آج ہمارا میڈیا بالخصوص پرنٹ میڈیا بھی جان کنی کی کیفیت میں ہے جبکہ ملک کے دشمنوں کو ملک کی بقاءوسلامتی کے خلاف جاری ننگی سازشوں کا مسکت جواب دینے کے لیئے آج بھی بالخصوص پرنٹ میڈیا کے ویسے ہی مضبوط محاذ کی ضرورت ہے جیسا صحافتی محاذ قیام پاکستان کے مقاصد کو اجاگر کرنے کے لیے23 مارچ 1940ءکو نوائے وقت کی شکل میں قائم کیا گیا تھا۔ خدا اس وطنِ عزیز کا محافظ و نگہبان ہو۔

girdopesh

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی