حیدرآباد (گردو پیش) سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی (سیڈا) کے چیئرمین قبول محمد کھٹیان نے ضلع بدین میں پانی کی شدید قلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پانی چوری کے خلاف بھرپور آپریشن کا حکم دے دیا ہے،
یہ ہدایات انہوں نے ٹنڈو محمد خان، ماتلی اور بدین کے ٹیل کے علاقوں کے دورے کے دوران آبادگاروں سے ملاقاتوں کے بعد جاری کیں،
چیئرمین سیڈا نے اپنے دورے کے دوران پھلیلی کینال کے 30ویں میل، اما واہ کراس ریگولیٹر، علی پور کراس ریگولیٹر، 70 میل اور ٹی پی ایکس ریگولیٹر کا دورہ کیا اور پانی کی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیا،
اس موقع پر چیئرمین سیڈا قبول محمد کھٹیان نے کہا کہ ارسا نے رواں سال سندھ کو ضرورت کے مطابق پانی فراہم نہیں کیا، جس کے باعث چاول اور کاٹن کی کاشت تاخیر کا شکار ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبی نظام میں پانی کی دستیابی کم جبکہ طلب زیادہ ہے۔ محکمہ آبپاشی کے انجینئرز اور عملہ شب و روز محنت کرکے پانی کو ٹیل تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم بعض افراد کی جانب سے موگے توڑ کر اور پائپ لگا کر پانی چوری کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جن کی روک تھام کے لیے فوری آپریشن کا حکم دیا گیا ہے،
انہوں نے واضح کیا کہ پانی چوری کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ مزید انہوں نے کہا کہ ارسا کی جانب سے بروقت پانی فراہم نہ کیے جانے کے باعث سندھ میں دھان اور کپاس کی کاشت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس پر حکومت سندھ نے ہر متعلقہ فورم پر بھرپور احتجاج کیا ہے،
لیفٹ بینک کینالز ایریا واٹر بورڈ کے ڈائریکٹر عبد الواحد کندھر نے اس موقع پر بتایا کہ ایگزیکٹو انجینئرز اور ان کا عملہ دن رات گشت کر کے پانی کی تقسیم کو بہتر بنانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی طلب زیادہ اور دستیابی کم ہونے کے باعث وارا بندی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا رہا ہے،
انہوں نے مزید کہا کہ پانی چوری کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا چکے ہیں اور اب باقاعدہ آپریشن کے ذریعے پانی چوری میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کرائے جائیں گے تاکہ ٹیل کے علاقوں تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے،
دورے کے دوران متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر آبادگاروں نے چیئرمین سیڈا اور ڈائریکٹر ایریا واٹر بورڈ کو پانی کی عدم فراہمی، پانی چوری اور وارا بندی سے متعلق شکایات پیش کیں، جن میں سے متعدد شکایات موقع پر ہی حل کر دی گئیں،
