میرا سندھ

ٹنڈوآدم میں ادبی سرگرمیوں کا تسلسل، معروف صاحبِ دیوان شاعرہ یاسمین زاہد کے اعزاز میں شاندار ادبی شام

ٹنڈوآدم(گردوپیش)
ٹنڈوآدم ہمیشہ سے علم و ادب، شعر و شاعری، تہذیب و ثقافت اورفکری سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز رہا ہے، جہاں اہلِ علم و قلم کی پذیرائی اور ادبی شخصیات کے اعترافِ خدمت کی خوبصورت روایت آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ برقرار ہے۔ اسی روشن ادبی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹنڈوآدم لٹریری اینڈ کلچر فورم کے زیرِ اہتمام شاہ عبداللطیف میونسپل لائبریری ٹنڈوآدم میں معروف صاحبِ دیوان شاعرہ یاسمین زاہد کے اعزاز میں ایک پُروقار، شاندار اور یادگار ادبی شام کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت معروف ماہرِ تعلیم اور لٹریری اینڈ کلچر فورم کے صدر مرزا اشفاق بیگ نے کی، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے ڈسٹرکٹ آرگنائزر محمد عارف شیخ مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں شہر کی ممتاز علمی و ادبی شخصیات، شعراء، اساتذہ، دانشوروں، سماجی شخصیات اور ادب سے گہرا تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب میں سابق پرنسپل نیو علیگڑھ گورنمنٹ ڈگری کالج ٹنڈوآدم پروفیسر یاد شیخ، علمی، ادبی و سماجی شخصیت سعادت نور خان، ممتاز سماجی شخصیت و انفارمیشن سیکریٹری عمران عزیز غوری، سابق ایم ایس تعلقہ اسپتال ٹنڈوآدم ڈاکٹر بشیر احمد خاصخیلی، ڈاکٹر غلام ناصر قریشی، حیسکو آفیسر فہیم قریشی کمانڈو، سندھ اسمال انڈسٹریز یونین ٹنڈوآدم کے نائب صدر جام شرف الدین انصاری، شہباز بہلم، معروف شاعر مرتضیٰ چشتی، معروف شاعر کامران عشرت، فیصل غفور انصاری، آصف شاہ، ہیڈ ماسٹر ارشاد ملک، محمد عمران جگنو، فرید عباسی، نثار قریشی، حارث غوری سمیت دیگر معززین نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرزا اشفاق بیگ، محمد عارف شیخ، سعادت نور خان، عمران عزیز غوری، پروفیسر یاد حسین شیخ، ڈاکٹر بشیر خاصخیلی، ڈاکٹر غلام ناصر قریشی، فہیم قریشی کمانڈو، مرتضیٰ چشتی، کامران عشرت، ملک ارشاد، فیصل غفور اور دیگر مقررین نے شاعرہ یاسمین زاہد کی ادبی خدمات، شعری صلاحیتوں اور تخلیقی سفر کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ یاسمین زاہد محض ایک شاعرہ نہیں بلکہ شعر و ادب سے گہری وابستگی رکھنے والی ایک صاحبِ مطالعہ اور صاحبِ فکر ادبی شخصیت ہیں، جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے جذبات، احساسات، انسانی رشتوں، معاشرتی رویوں اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو خوبصورت شعری پیرائے میں بیان کیا ہے۔
مقررین نے کہا کہ صاحبِ دیوان ہونا کسی بھی شاعر کے لیے ایک اہم ادبی اعزاز ہے، کیونکہ دیوان کی صورت میں شاعر کی تخلیقی کاوشیں ایک مستقل ادبی سرمایہ بن جاتی ہیں۔ یاسمین زاہد کی شاعری میں احساس کی لطافت، فکر کی گہرائی، زبان کی شائستگی اور اظہار کی خوبصورتی نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کا شعری سفر نہ صرف ان کی ذاتی تخلیقی صلاحیتوں کا آئینہ دار ہے بلکہ ٹنڈوآدم کے ادبی ماحول اور یہاں کی زندہ تہذیبی روایت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ تقریب کے شرکاء نے اس امر پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ ٹنڈوآدم میں آج بھی کتاب، شعر، ادب اور اہلِ قلم کے لیے محبت رکھنے والے افراد موجود ہیں اور ادبی محافل کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی تقریبات معاشرے میں مثبت سوچ، برداشت، فکری شعور، تخلیقی صلاحیت اور مطالعے کا ذوق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ موجودہ دور میں جب نوجوان نسل کا مطالعے اور کتاب سے تعلق کمزور ہوتا جا رہا ہے، ایسی ادبی محافل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو کتاب، لائبریری، شعر و ادب اور مثبت فکری سرگرمیوں سے جوڑا جائے تاکہ معاشرے میں علم و آگہی اور تہذیبی شعور کی فضا کو فروغ دیا جا سکے۔ شرکاء نے کہا کہ ٹنڈوآدم کی ادبی روایت اس شہر کی تہذیبی شناخت کا ایک اہم اور قابلِ فخر حصہ ہے۔ یہاں کے شعراء، ادباء، اساتذہ اور اہلِ قلم نے مختلف ادوار میں علم و ادب کی شمع روشن رکھی ہے اور آج کی ادبی نسل اسی روشن روایت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ تقریب میں شاعرہ یاسمین زاہد کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی دراصل علم، کتاب اور تخلیقی فکر کی حوصلہ افزائی ہے۔ ایسی شخصیات معاشرے کا ادبی سرمایہ ہوتی ہیں اور ان کی پذیرائی نئی نسل کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے۔ محفل کے دوران شعراء کرام نے شعر و ادب سے وابستہ خوبصورت جذبات کا اظہار کیا اور یاسمین زاہد کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ٹنڈوآدم لٹریری اینڈ کلچر فورم مستقبل میں بھی ایسی علمی، ادبی اور ثقافتی تقریبات کا سلسلہ جاری رکھے گا اور شہر کے اہلِ قلم کو ایک مضبوط اور باوقار ادبی پلیٹ فارم فراہم کرتا رہے گا۔ اس موقع پر صاحبِ دیوان یاسمین زاہد نے خوبصورت اشعار سامعین کی نذر کیے، جنہیں بے حد سراہا گیا اور پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ فورم کے صدر مرزا اشفاق بیگ نے صاحبِ دیوان یاسمین زاہد کو یادگاری شیلڈ پیش کی، جبکہ فورم کے اراکین نے بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب میں صاحبِ دیوان یاسمین زاہد اور دیگر مہمانوں کو سندھ کا روایتی تحفہ اجرک پیش کیا گیا۔
تقریب مجموعی طور پر علم و ادب، محبت، احترام اور فکری ہم آہنگی کا خوبصورت مظہر ثابت ہوئی، اور شرکاء نے اسے ٹنڈوآدم کی ادبی تاریخ میں ایک خوشگوار اور یادگار اضافہ قرار دیا،

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

پاکستان میرا سندھ

حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس دستور نے سابق وفاقی وزیر فوادچوہدری کی جانب سے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے ساتھ توہین آمیزروئے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ھے

حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر لالہ مرزاخان جنرل سیکرٹری فہیم صدیقی اور ممبران مجلس عاملہ نے سینئر صحافی مطیع
میرا سندھ

حیدرآباد (گردوپیش) ایڈ منسٹر یٹر شعیب احمد ملک میونسپل کمشنر فاخر شاکر کی ہدایت پر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لطیف آباد اینٹی

انکروچمنٹ شکیل قریشی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ سٹی حیدرآباد کی زیر نگرانی حیدرآباد کے مختلف بازاروں میں اور مختلف

2

Kingmaker casino login