حیدرآباد(گردوپیش)سندھ یونیورسٹی اور اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط، جامعہ کے تعلیمی پروگراموں میں صنفی بنیادوں پر تشدد کے کیس مینجمنٹ سے متعلق نصاب باقاعدہ طور پر شامل ہوگا، معاہدے پر شیخ الجامعہ سندھ اور اقوامِ متحدہ پاپولیشن فنڈ کے پاکستان میں نمائندے نے دستخط کیے: تعلیمی پروگراموں میں جی بی وی کیس مینجمنٹ کے مضمون کی شمولیت سے ایسے ماہرین کی نئی نسل تیار ہوگی جو صنفی بنیادوں پر تشدد کے مسائل کو مؤثر انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھیں گی: وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (ٹی آئی) کا اظہار٫
اعلیٰ تعلیم میں صنفی حساسیت پر مبنی تعلیم اور تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر سندھ یونیورسٹی جامشورو اور اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت جامعہ کے تعلیمی پروگراموں میں صنفی بنیادوں پر تشدد کے کیس مینجمنٹ سے متعلق نصاب کو باقاعدہ طور پر شامل کیا جائے گا۔ معاہدے کے مطابق اقوامِ متحدہ کا پاپولیشن فنڈ سندھ یونیورسٹی کو تکنیکی معاونت، نصابی ماڈیولز، تربیتی وسائل، علمی ٹول کٹس اور ماہرانہ رہنمائی فراہم کرے گا، جبکہ سندھ یونیورسٹی اس نصاب کو اپنے باقاعدہ ڈگری پروگراموں کا حصہ بنائے گی، جینڈر بیسڈ وائلنس (جی بی وی) سے متعلق معاملات پر تحقیق کو فروغ دے گی اور طلبہ کے لیے انٹرن شپ اور فیلڈ پلیسمنٹ کے مواقع فراہم کرے گی۔ مذکورہ معاہدے کا مقصد اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا بھی ہے، جس کے لیے جی بی وی کیس مینجمنٹ کے جدید طریقوں اور عالمی معیارات سے متعلق خصوصی تربیت دی جائے گی۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب وائس چانسلر آفس میں منعقد ہوئی، جہاں شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (تمغۂ امتیاز) اور اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے پاکستان میں نمائندے لوئے شبانیہ نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی کرائمز اینڈ انویسٹی گیشن سندھ عامر فاروقی، پرو وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی ٹھٹھہ کیمپس پروفیسر ڈاکٹر مصباح بی بی قریشی، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر نانک رام، ڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر فرحت نورین، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف جینڈر اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر امیر علی بُرڑو، کنٹرولر سیمسٹر امتحانات محمد معشوق صدیقی، چیئرپرسن اینٹی ہراسمنٹ سیل پروفیسر ڈاکٹر نسیم اسلم چنا، سینئر اساتذہ، محققین اور دونوں اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ تقریب میں بات چیت کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (ٹی آئی) نے کہا کہ یہ معاہدہ علمی دنیا اور معاشرے دونوں کے لیے ایک انقلابی اور تبدیلی لانے والا اقدام ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ہمارے اس عزم کا اظہار ہے کہ ہم ایسے گریجویٹس تیار کریں جو نہ صرف علمی طور پر باصلاحیت ہوں بلکہ سماجی ذمہ داریوں کا بھی احساس رکھتے ہوں اور معاشرے کو درپیش اہم مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت سے آراستہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی پروگراموں میں جی بی وی کیس مینجمنٹ کے مضمون کو شامل کرنے سے ایسے ماہرین کی نئی نسل تیار ہوگی، جو صنفی بنیادوں پر تشدد کے مسائل کو مؤثر انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھیں گی۔ ڈاکٹر مری نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی ایسا تعلیمی ماحول پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے جو معاشرے کے ہر فرد کے لیے عزت، مساوات اور تحفظ کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی بنیادوں پر تشدد کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے اور پائیدار حل تجویز کرنے کے لیے تحقیق پر مبنی اقدامات نہایت اہم اور ضروری ہیں۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ پاپولیشن فنڈ کے ساتھ یہ معاہدہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، طلبہ کی تعلیمی شمولیت اور شواہد پر مبنی تحقیق کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس نصاب کے ذریعے حاصل ہونے والا علم اور مہارتیں زیادہ محفوظ، جامع اور بہتر معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اقوامِ متحدہ پاپولیشن فنڈ پاکستان کے نمائندے لوئے شبانیہ نے اس معاہدے کو صنفی انصاف کے فروغ اور خواتین سمیت کمزور طبقات کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی ردعمل کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعات سماجی رویوں، پالیسیوں اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، جو صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام اور اس کے تدارک میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔لوئے شبانیہ نے کہا کہ یہ معاہدہ تعلیمی معلومات اور آگاہی کی کمی کو دور کرنے میں مدد دے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مستقبل کے ماہرین متاثرہ افراد کی عزتِ نفس کو برقرار رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ان کی مدد کرنے کے قابل بن سکیں۔ واضح رہے کہ اس تعاون کے تحت صنفی مساوات، تحفظ اور متعلقہ امور پر اعداد و شمار اور شواہد پر مبنی تحقیق اور آگاہی مہمات کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ دونوں اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے اور ایک زیادہ باخبر، ذمہ دار اور بہتر معاشرے کی تشکیل میں مدد ملے گی,
سندھ یونیورسٹی اور اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط،
- BY girdopesh
- جون 20, 2026
- 0 Comments

