حیدرآبادگردو پیش قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایڈوکیٹ ایاز لطیف پیلجونے کہاہے کہ وہ پیلزپارٹی کی جانب سے نواز لیگ اور ایم کیوایم سے کیئے گئے معاہدے کورد کرتے ہیں،شاہدخاقان عباسی کوکس نے اختیاردیا ہے کہ وہ سندھ میں انتظامی یونٹ کی بات کرے،ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سندھ کے اہم انتظامی عہدے غیر آئنی طریقے سے ایم کیوایم کودیئے جا رہے ہیں،جس کے خلا ف پوراسندھ سراپا احتجاج ہوگا اور اگرضرور پڑی توسندھ میں تمام اہم شاہرائیں بندکر کے سندھ اسمبلی اور گورنرھاوس کا گھیراﺅکیاجائے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد پر یس کلب کے سامنے دیئے گئے دھرنے سے خطاب کرتے ہو ئے کیا اس موقع پر نیاز کالانی اور پنہل ساریوبھی موجود تھے، ،قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایڈ وکیٹ ایازلطیف پلیجونے کہا ہے کہ اقتدار کی خاطر سندھ کو تھالی میں رکھ کرپیش کیا جارہا ہے جس کو وہ نہیں ہونے دیں گے ،انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی پارٹی سے اختلاف نہیں ہے تمام پارٹیوں کے لیڈر قابل احترام ہیں،آصف زرداری ہو ،شہباز شریف ہو،بلاول ہو یا کوئی اور ہمیں اردوبولنے والوں سے بھی اختلاف نہیں ہیں ،لیکن اگر ہمیں اختلاف ہے تووہ اس غیر آئینی طریقے کار سے ہے ،
پیپلزپارٹی نے اقتدارکے خاطر سندھ کو دﺅپر لگادیاہے،معاہدے میں نئے یونٹ کی بات کی گئی ہے،کونسے نئے یونٹ،انہوں نے کہا کہ آپ کو اور پیپلزپارٹی کو یہ اختیار کس نے دیاہے،کیا پیپلزپارٹی نے اس لیئے منڈیٹ مانگا تھا کہ وہ سندھ کو تقسیم کرنے کے معاہدے کرے،ہم نے کبھی بھی یہ نہیں کہاکہ سندھ میں سندھی پختون پنجابی ایس ایس پی یا دیگر پوسٹوں پر کیوں ہیں،ہم کہتے ہیں جو بھی آئیں میرٹ پر آئیں ہم انہیں ویلکم کہں گے،لیکن ایسا نہیں ہوگاکہ آپ ایک معاہدے کے تحت اسمبلی میں 6 ووٹ لیکر گورنر، اسپیکر،پبلک سروس کمیشن کی چیئرمین ،سیکریٹری شپ انہیں دینگے،ہم اس معاہدے کو رد کرتے ہیں،ہم یہ تمام عہدے دہشت گردوں کے قبضے میں نہیں دیں گے،کیا یہ آئین کی توہین نہیں کہ سندھ کے ان اہم عہدوں کو بیچ دیا جا ئے،یہ تمام پوسٹیں آئینی پوسٹیں ہیں ان کو غیر آئینی طریقے سے ایک دوسرے میں کیسے تقسیم کیاجاسکتاہے،ایسی پوسٹیں ہمیشہ اکثریت کی بناپر دی جاتی ہیں ،انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ یہ اہم عہدے ڈاکٹر ادیب رضوی،تاج حیدر،صادقہ صلاح الدین ،کرامت علی،ماجدہ رضوی،جسٹس وجیہہ الدین، جسٹس ناصر اسلم زاہدکو دیں ہمیں کو ئی اعطراض نہیں ہے، لیکن کیاآپ گورنر ہاوس کو دہشت گردوں کا مرکز بناناچاہتے ہوجیسے اس قبل ضیاءالدین ہسپتال میں دہشت گردوں کو پناہ دی جاتی تھی،آپ اس طرح گورنرہاوس کو بناناچاہتے ہو،ہم ایسے معاہدے کو رد کرتے ہیں،انہوں نے بلاول بھٹوزرداری،آصف علی زرداری،وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہو ئے کہا کہ ہم اس معاہدے کو رد کرتے ہیں،اورشاہد خاقان عباسی سے سوال کیا کہ آپ کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ آپ یہ بات کہیں کہ سندھ میں انتظامی یونٹ بننے چاہئے،اگرضرورت پڑی تو ہم احتجاج کی کال دیں گے اور سندھ کی تمام شاہراہیں بلاک کردیں گے ،اور سندھ اسمبلی، گورنرھاوس کا گھیراﺅ کرسکتے ہیں،سندھ کے لوگوں کو مت چھیڑیں سندھ کے لوگوں کو دیوار سے مت لگائیں سندھ سخت مزہمت کرے گایہ پراناسندھ نہیں ہے ،پیپلزپارٹی کے ایم پی اے ایم این اے پارٹی کے نہیں سندھ کے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم اردوبولنے والوں کے مخالف نہیں ہے، عظم الدین طارق، ڈاکٹرعمران فاروق،صلاح الدین، حکیم سعید ،منور سہردوری یہ سب سندھی بولنے والے نہیں تھے بلکہ اردوبولنے والی ماوئں کے بچے تھے جن کو قتل کیاگیا،
قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایڈوکیٹ ایاز لطیف پیلجونے کہاہے کہ وہ پیلزپارٹی کی جانب سے نواز لیگ اور ایم کیوایم سے کیئے گئے معاہدے کورد کرتے ہیں،شاہدخاقان عباسی کوکس نے اختیاردیا ہے کہ وہ سندھ میں انتظامی یونٹ کی بات کرے،ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سندھ کے اہم انتظامی عہدے غیر آئنی طریقے سے ایم کیوایم کودیئے جا رہے ہیں،جس کے خلا ف پوراسندھ سراپا احتجاج ہوگا اور اگرضرور پڑی توسندھ میں تمام اہم شاہرائیں بندکر کے سندھ اسمبلی اور گورنرھاوس کا گھیراﺅکیاجائے گا
