اس وقت ملک میں غضب کی مہنگائی کا طوطی بول رہاہے اور مہنگائی کے خلاف احتجاج ھورہے ہیں ایک جناب کسان میدان میں ہیں دوسری جانب تحریک انصاف بھی لانگ مارچ کرنے جارہی ہے،
عدلیہ کی آزادی اور اپنے بانی لیڈر عمران خان کی رہائی کیلئے میدان عمل میں ھے، دوسری جانب
گزشتہ ایک ماہ کے دوران
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غضب کا اضافہ کیا گیاھے پٹرولیم مصنوعات کے نرخ کو200 سے بڑھا کر 425 اور 394 تک پہنچا دیاھے جس نے عوام کی کمر توڑ دی ھے، اب معلوم یہ ھورہاہے کہ
کچھ دن بعد مسلط ٹولے کا کوئی نہ کوئی مسلط شدہ وزیر مشیر نمودار ھوگا اور 30 سے 40 روپے لیوی کم دینے کا اعلان کردیگا٫جوکہ لگتا ایسا ہی ھے،
اور پھر ہمارے غم خوار سیاستدان اپنا مطالبہ 230 والا بھول جائیں گے،
اور اس طرح پھر ڈھول کی تھاپ پر رقص ھوگا،
میرے میڈیا کے ساتھی نیوز کاسٹر کو یہ اسکرپٹ تحریر کرکے دینگے کہ وزیراعظم عوامی جمہوریہ پاکستان نے عوام کو بڑا رلیف فراہم کردیا پٹرولیم مصنوعات پر لیوی 30 سے 40 فیصد کم کردی گئی ھے، اور پھر ایک مونچھوں والا شخص ٹیلیویژن پر نمودار ھوگا اور فرمائے گا جناب دیکھا وزیراعظم عوام کا درد سینے میں رکھتے ہیں، ایسا نہیں ھے کہ ہمیں عوام کا احساس نہیں ھے، کچھ لوگ تو شر پسند عناصر ہیں وہ شر پھیلانے کیلئے خیبرپختونخوا سے اسلام آباد پر حملہ کرنے آرہے ہیں ان کے ساتھ بات نہیں کرنی ھے،
یہ ملتان سے واپس جانے والوں کا جو عوام کیلئے درد ھے ہمارے سینے میں بھی وہی درد کروٹیں لے رہاھے اور ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں،
ہم دونوں نے جرنل ضیاء الحق کو بھی قریب سے دیکھا تھا وہ قدرے ایوب مشرف راحیل آصف نواز جنجوعہ ،کاکڑ سے بہتر تھا،
بس آپ لوگ فسادیوں کے چکر میں نہ آئیں ہم ابھی تازہ ( اس ) کے کہنے پر تین ملکی اتحاد بناکر آئیں ہیں اور اس میں (اس ) کی خوشی تھی جناب،اصل میں نشانہ ایران ھے،
چلو واپس مہنگائی کی طرف آتے ہیں، بس سنو سنو یہ تحریک انصاف کا آخری مارچ ھوگا، پھر وہ اسلام آباد نہیں اسکے گیں، اسٹبلشمنٹ کا ہمارے سر پر ہاتھ ھے وہ انہیں نیست ونابود کردینگے،
وہی تو لائے ہیں ہمیں ورنہ تو میاں نواز شریف صاحب ڈاکٹر یاسمین راشد سے ہار گئے تھے دیکھو اب وہ ظالم خاتون یاسمین راشد جیل میں ھے،
پھر وہ خواجہ آصف کو اس ظالم خاتون ریحانہ ڈارکے ہاتھوں شکست کھا گیا دیکھو بڑے ظالم لوگ ہیں ان لوگوں کا ہمارے ٹاپ کے لیڈران پر رحم نہیں آیا، ابھی اگر مینے لیسٹ دیکھائی تو حیران ھونگی عوام وہ کراچی
کراچی میں دیکھو جیتنے والے نے کہاکہ میں ہار گیاھوں لیکن ہم نے انکی ایک بھی نہیں سنی، دیکھو کتنا ظالم بے رحم اور احسان فراموش ھے وہ شخص جن کو ہم نے جتوایا وہ کہتاتھا ہم ہارے ہوئے ہیں آف اللہ بس کیا کریں یہ اسٹبلشمنٹ ہی ھے جس نے ہماری ہار کو جیت میں بدل دیا،
بس خاطر رکھو یہ ظالم انجام کو پہنچیں گے،
پاکستان ذندہ آباد ،
چند لفظوں کی کہانی تحریر لالہ مرزاخان