کالم

تلوار سے ووٹ کی پرچی تک:تحریر:آفتاب احمد خانزادہ

انسانی تاریخ دراصل اقتدار کی تاریخ ہے؛ اور اقتدار کی تاریخ اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ حکومت کس کی ہوگی اور اسے بدلنے کا حق کس کے پاس ہوگا؟ ہزاروں سال تک اس سوال کا جواب تلوار، نیزے، توپ اور بندوق دیتی رہی۔ جو طاقتور تھا، وہ حکمران تھا؛ جو زیادہ خون بہا سکتا تھا، وہ زیادہ دیر تک تخت پر بیٹھ سکتا تھا۔ مگر انسانی تہذیب کا سب سے بڑا سفر شاید یہ ہے کہ اس نے بالآخر تلوار کو ہاتھ سے رکھ کر ووٹ کی پرچی کو ہاتھ میں لے لیا۔ابتدائی انسانی معاشرے میں طاقت ہی قانون تھی۔ قبیلہ، سردار، بادشاہ اور فاتح—اقتدار کی بنیاد اکثر جسمانی قوت اور جنگی صلاحیت تھی۔ قدیم سلطنتوں میں بادشاہ کی حیثیت صرف حکمران کی نہیں بلکہ قانون کے سرچشمے کی بھی ہوتی تھی۔ مصر کے فرعون ہوں، میسوپوٹیمیا کے بادشاہ، فارس کے شہنشاہ یا روم کے مطلق حکمران، اقتدار زیادہ تر اوپر سے نیچے آتا تھا۔ عوام حکومت کے تابع تھے؛ حکومت عوام کی مرضی کی تابع نہیں تھی۔یہ انسانی نفسیات کا بھی ایک تاریک باب تھا۔ انسان اپنے خوف کو منظم کرکے دوسروں پر حکومت کرتا رہا۔ جس کے پاس طاقت تھی، اس کے پاس سچ بھی سمجھا جاتا تھا۔ کمزور صرف اس لیے غلط تھا کہ وہ کمزور تھا۔مگر انسانی عقل نے آہستہ آہستہ اس ترتیب پر سوال اٹھانا شروع کیا۔یونان میں نے پانچویں صدی قبل مسیح میں شہری شرکت کی ایک ایسی شکل پیدا کی جسے آج جمہوریت کی ابتدائی شکلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایتھنز کی جمہوریت آج کے معنی میں مکمل جمہوریت نہیں تھی؛ عورتیں، غلام اور بہت سے غیر شہری سیاسی حقوق سے محروم تھے۔ لیکن ایک بنیادی خیال پیدا ہو چکا تھا: حکومت صرف بادشاہ کی ملکیت نہیں؛ شہری بھی سیاسی فیصلے میں شریک ہو سکتے ہیں۔یہ معمولی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ انسانی ذہن میں ایک نئے تصور کی پیدائش تھی۔افلاطون نے جمہوریت پر شدید تنقید کی، ارسطو نے ریاست اور شہری کے تعلق کا تجزیہ کیا، اور رومی جمہوریہ نے قانون، اداروں اور نمائندگی کے کچھ تصورات کو آگے بڑھایا۔ تاریخ نے پہلی مرتبہ یہ دیکھنا شروع کیا کہ اقتدار کو صرف ایک شخص کی خواہش کے بجائے قانون اور اداروں کے ذریعے محدود بھی کیا جا سکتا ہے۔پھر صدیوں تک بادشاہتیں واپس غالب رہیں۔ یورپ میں بادشاہوں نے خدائی حقِ حکمرانی کا تصور پیش کیا۔ لیکن اسی دوران انسانی فکر کے اندر ایک خاموش انقلاب جاری تھا۔ سوال بڑھتا گیا:اگر انسان آزاد پیدا ہوتا ہے تو حکومت اس کی مرضی کے بغیر اس پر کیوں حکومت کرے؟یہ سوال بعد میں جان لاک، روسو اور دیگر سیاسی مفکرین کے ہاں ایک باقاعدہ فلسفہ بن گیا۔ نے حکمرانی کی مشروعیت کو رضامندی سے جوڑا؛ نے عوامی حاکمیت کا تصور پیش کیا۔ یوں اقتدار کے مرکز میں بادشاہ کی جگہ انسان آنے لگا۔پھر تاریخ نے ایک بڑا دھماکہ دیکھا:۔فرانس میں صدیوں پرانی بادشاہت، طبقاتی امتیاز اور معاشی بحران کے خلاف بغاوت پھوٹی۔ باسٹیل کا قلعہ گرا، بادشاہت لرزی، خون بہا اور انقلاب نے ایک نئی سیاسی زبان پیدا کی: آزادی، مساوات اور اخوت۔لیکن انقلاب نے انسان کو ایک اور تلخ سبق بھی دیا۔ صرف پرانا تخت گرا دینا کافی نہیں؛ اگر اقتدار کی منتقلی کا پرامن اور ادارہ جاتی راستہ نہ ہو تو انقلاب خود تشدد کا شکار ہو سکتا ہے۔ انقلاب فرانس کے بعد دہشت کا دور آیا، گلوٹین چلی، مخالفین مارے گئے اور بالآخر نپولین کے ہاتھ میں طاقت مرکوز ہو گئی۔یہ انسانی تاریخ کا ایک بنیادی سبق ہے:تشدد ظالم کو ہٹا سکتا ہے، مگر لازماً ظلم کو ختم نہیں کرتا۔انیسویں اور بیسویں صدی میں انسان نے اسی مسئلے کا دوسرا حل تلاش کیا: نمائندہ جمہوریت۔برطانیہ میں پارلیمانی نظام بتدریج وسیع ہوا۔ امریکہ میں انتخابی ادارے مضبوط ہوئے، اگرچہ ابتدا میں ووٹ کا حق بہت محدود تھا اور غلامی ایک خوفناک تضاد کے طور پر موجود رہی۔ خواتین کو ووٹ کے حق کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑی۔ یوں جمہوریت بھی کوئی آسمانی تحفہ نہیں تھی؛ اسے انسانوں نے لڑائی، احتجاج، قربانی اور مسلسل اصلاح کے ذریعے بنایا۔یہاں ووٹ کی اصل فلسفیانہ اہمیت سامنے آتی ہے۔ووٹ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں؛ یہ اس اعلان کا نام ہے کہ اقتدار میرے جسم پر بندوق رکھ کر نہیں، میری رضامندی سے قائم ہوگا۔ووٹ طاقتور اور کمزور کے درمیان ایک عجیب مساوات پیدا کرتا ہے۔ ارب پتی اور غریب، وزیر اور مزدور، جاگیردار اور کسان—بیلٹ باکس کے سامنے اصولاً ہر شخص ایک ووٹ رکھتا ہے۔یہ انسانی نفسیات کے لیے بھی ایک عظیم تبدیلی تھی۔ پہلے اقتدار چھیننے کے لیے دشمن کو مارنا پڑتا تھا؛ اب اسے شکست دینے کے لیے صرف اتنا کافی تھا کہ لوگ آپ کے ساتھ نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ جمہوریت نے انسانی جارحیت کو ختم نہیں کیا، بلکہ اسے ایک نئے راستے میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔ سیاسی غصہ ووٹ میں بدل سکتا ہے، احتجاج پارلیمان تک پہنچ سکتا ہے، اختلاف حکومت کی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔نے سیاسی فلسفے میں ایک بنیادی سوال اٹھایا تھا کہ ایسا نظام کیسے بنایا جائے جس میں برے حکمرانوں کو بغیر خونریزی کے ہٹایا جا سکے۔ یہی جمہوریت کی اصل خوبصورتی ہے۔جمہوریت یہ وعدہ نہیں کرتی کہ عوام ہمیشہ درست فیصلہ کریں گے۔ وہ صرف یہ وعدہ کرتی ہے کہ غلط فیصلہ تبدیل کرنے کا راستہ بندوق نہیں ہوگا۔یہاں کا تصور بھی اہم ہوجاتا ہے: حکومت عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے۔ اس تصور میں اقتدار کسی خاندان، قبیلے یا فاتح کی مستقل ملکیت نہیں رہتا بلکہ ایک عارضی امانت بن جاتا ہے۔لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ووٹ کا ہونا اور جمہوریت کا ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ اگر انتخابات آزاد نہ ہوں، ادارے کمزور ہوں، اختلاف کو جرم بنا دیا جائے، میڈیا خاموش ہو، دولت سیاست خرید لے اور ووٹ کو دھاندلی، خوف یا تعصب سے قید کر دیا جائے تو بیلٹ باکس صرف ایک صندوق رہ جاتا ہے؛ جمہوریت نہیں رہتی۔انسان آج بھی اپنی پرانی نفسیات سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوا۔ وہ شخصیت پرستی کرتا ہے، دشمن تراشتا ہے، گروہوں میں تقسیم ہوتا ہے اور طاقتور کے سامنے جھکنے کا رجحان رکھتا ہے۔ مگر تہذیب کا کمال یہ نہیں کہ انسان کے اندر سے حیوان ختم ہوگیا؛ کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانی جبلتوں کو قابو کرنے کے لیے ادارے پیدا کیے۔ووٹ انہی اداروں میں سب سے اہم دریافتوں میں سے ایک ہے۔جب ایک قوم اپنے حکمران کو اس لیے ہٹا سکتی ہے کہ اس نے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے، اور اس عمل کے لیے توپ، ٹینک یا انقلاب کی ضرورت نہیں پڑتی، تو یہ محض سیاسی طریقہ نہیں رہتا؛ یہ انسانی تہذیب کی ایک بلند ترین منزل بن جاتا ہے۔تلوار کہتی تھی: جو طاقتور ہے وہ حکمران ہے۔بادشاہت کہتی تھی: جو تخت کا وارث ہے وہ حکمران ہے۔آمریت کہتی ہے: جس کے پاس بندوق ہے وہ حکمران ہے۔جمہوریت پہلی مرتبہ کہتی ہے:جس کے پاس عوام کا اعتماد ہے، وہ حکمران ہے؛ اور جب اعتماد ختم ہوجائے تو عوام اسے پُرامن طریقے سے واپس بھیج سکتے ہیں۔یہی انسان کی ہزاروں سالہ سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے۔تہذیب کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نے لڑنا چھوڑ دیا؛ تہذیب کا مطلب یہ ہے کہ اس نے لڑائی کا طریقہ بدل دیا۔اس نے میدانِ جنگ کو پولنگ اسٹیشن سے بدلنے کی کوشش کی، تلوار کو بیلٹ پیپر سے، تخت کو پارلیمان سے اور خونریزی کو انتخاب سے۔شاید انسانی تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی ایجاد یہی ہے کہ حکومت بدلنے کے لیے اب لاشوں کی ضرورت نہیں؛ صرف عوام کی رائے کافی ہونی چاہیے۔اور جس دن کوئی معاشرہ یہ اصول کھو دیتا ہے، اس دن وہ صرف جمہوریت نہیں کھوتا—وہ انسانی تہذیب کی ہزاروں سالہ جدوجہد سے حاصل کیا ہوا وہ راستہ کھو دیتا ہے جو انسان کو تلوار سے ووٹ کی پرچی تک لے کر آیا تھا۔انسان نے ہزاروں سال کی خون آلود تاریخ کے بعد یہ سیکھا کہ اقتدار بدلنے کے لیے ہر بار تلوار نہیں اٹھانی پڑتی؛ کبھی ایک چھوٹی سی پرچی بھی سلطنت کے تخت کو ہلا سکتی ہے۔ مگر پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں انسان نے ووٹ کی طاقت تو دریافت کر لی، مگر طاقتور طبقے نے آج تک ووٹ کی آزادی کو دل سے قبول نہیں کیا۔قیامِ پاکستان کے بعد جمہوریت کو مضبوط اداروں، مسلسل انتخابات اور آئینی بالادستی کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے تھا، مگر ہماری سیاسی تاریخ بار بار غیر جمہوری مداخلتوں، مارشل لاؤں، آئینی تعطل اور اقتدار کی غیر فطری منتقلیوں کا شکار رہی۔ 1958 میں پہلا مارشل لا، پھر 1977، پھر 1999—تاریخ کے یہ ابواب محض تاریخ کی کتابوں میں دفن واقعات نہیں؛ یہ پاکستانی سیاسی نفسیات پر لگے ہوئے زخم ہیں۔ہم نے ہر بار عوام سے کہا کہ ووٹ دو، مگر جب عوام نے اپنی مرضی کا فیصلہ دیا تو اقتدار کے دروازوں پر موجود طاقتوروں نے پوچھ لیا: فیصلہ تم نے کیا ہے، مگر مانیں گے ہم۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا سیاسی المیہ، پاکستانی انسان کے نفسیاتی المیے سے جڑ جاتا ہے۔ہم نے نسلوں کو یہ سکھایا کہ طاقت کے سامنے سر جھکانا عقل مندی ہے۔ بچے نے باپ کو طاقتور کے سامنے خاموش دیکھا، شہری نے افسر کے سامنے جھکتے دیکھا، سیاست دان نے طاقت کے مراکز کی طرف دیکھ کر سیاست کی، اور عام آدمی نے آہستہ آہستہ یہ یقین کر لیا کہ اس کی آواز صرف اس وقت اہم ہے جب اسے ووٹ دینے کی ضرورت ہو۔پھر انتخابات آتے ہیں۔پوسٹر لگتے ہیں، نعرے بلند ہوتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں، غریب کی دہلیز پر امیر سیاست دان پہنچتا ہے، ہاتھ ملاتا ہے، گلے لگاتا ہے اور اسے یقین دلاتا ہے کہ اب تمہاری حکومت ہوگی۔لیکن اقتدار ملتے ہی وہی غریب پھر قطار میں کھڑا ہوتا ہے—آٹے کے لیے، اسپتال کے لیے، نوکری کے لیے، انصاف کے لیے۔یہ صرف حکمرانوں کا جرم نہیں؛ یہ ہمارے سیاسی شعور کا المیہ بھی ہے۔ہم شخصیت کو ادارے پر، نعرے کو منشور پر، وابستگی کو دلیل پر اور جذبات کو عقل پر ترجیح دیتے ہیں۔ ہم لیڈر کو جواب دہ بنانے کے بجائے اسے مقدس بنا دیتے ہیں۔ پھر جب وہ ناکام ہوتا ہے تو اپنے فیصلے پر غور کرنے کے بجائے ایک نیا بت تراش لیتے ہیں۔یہ پاکستانی انسان کا سب سے خطرناک تضاد ہے:وہ آزادی چاہتا ہے، مگر شخصیت پرستی چھوڑنا نہیں چاہتا؛ وہ انصاف چاہتا ہے، مگر اپنے پسندیدہ ظالم کو معاف کر دیتا ہے۔دنیا کی سیاسی تاریخ نے یہ سبق بہت پہلے سیکھ لیا کہ اقتدار کا سب سے محفوظ راستہ اداروں سے گزرتا ہے، افراد سے نہیں۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں، مگر آئین، پارلیمان، عدالتیں، آزاد صحافت اور ووٹر کا حق باقی رہنا چاہیے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

"کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی

2