آج میں کراچی میں تھا کل حیدرآباد واپسی ھوگی اس اثناء میں ٹکٹ بک کرانے کیلئے کینٹ ریلوے اسٹیشن کراچی جانے کا اتفاق ھوا کیونکہ محکمہ ریلوے نے ہم صحافیوں کو E ٹکٹ کی سہولت سے محروم رکھا ھوا ھے، بلکہ ہم نے کئی بار پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے فیڈرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاسوں میں اس بارے میں مطالبات بھی رکھیں ہیں لیکن حکومت ہی ھے جو ہماری آواز پر کان نہیں دھرتی،
بات ھورہی تھی حیسکو کی نجکاری کی لیکن میں کسی اور راستے سے نکل گیا، جی اتفاق ھوا کینٹ ریلوے اسٹیشن کراچی جانے کا میری نظریں ایک شالیمار ایکسپریس ٹرین کے دفتر پر پڑی یقیناً اس کو وفاق نے حالیہ دنوں میں ہی پرائیویٹ کمپنی کے حوالے کیاتھا، یقین مانیں اسکا دفتر اور اسکے دفتر کے باہر کا ماحول بالکل صاف بہترین تھاصوفے لگے ھوئے تھے اے سی چل رہی تھی مسافر سکون سے تشریف فرما تھے پُرامن ماحول تھا، ایک دم خیال آیا کہ یہ وہی ٹرین ھے جو کچھ ماہ قبل سرکاری ملازمین کے قبضے میں تھی جسکے دفتر پان گٹکے سے لال تھے، ملازمین مسافروں کو جواب تک نہیں دیتے تھے،آج جب اس کو پرائیویٹ کمپنی کے حوالے کردیاگیاھے تو کمپنی حکومت پاکستان کو بھی پیسے اداکرے گی ملازمین کو تنخواہیں بھی اداکرے گی اور خود بھی منافع حاصل کرے گی اور ماحول طریقہ کار بھی درست ھے،
بالکل یہی حال حیسکو کا بھی ھے جہاں حیسکو ملازمین افسران نے ملی بھگت سے لوٹ مارکا بازار گرم کر رکھاھے صارفین انکی وجہ سے پریشان ہیں، حیسکو میں ہزاروں کی تعداد میں ٹیوب ویل آج بھی بجلی سے چل رہے ہیں جہاں ملازمین نے بل وصول کرنے کے بجائے ان سے فیکس ریٹ طے کیئے ھوئے ہیں جس میں، AC کپاس کی فیکٹریاں،لومز ملیں، بڑے بڑے میگا اسٹور فیکس ریٹ پر چل رہے ہیں جس سے ملازمین ماہانہ کروڑوں جبکہ سالانہ اربوں روپے بنتے ہیں افسران و ملازمین لوٹ رہے ہیں، اگر آپ حیسکو ملازمین کے گھر کو دیکھ لیں اور انکے کاروبار کے بارے میں جان لیں اور انکے بچے جہاں زیر تعمیر ہیں اس بارے میں سن لیں تو پہلے آپ کو یہ یقین نہیں ھوگا کہ ایک لائن مین کے بچے کیڈٹ کالج میں کیسے تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور پھر ایک اور لائن مین نے آٹے کی چکیاں کیسے لگائیں ہیں، جبکہ دیگر ملازمین کو دیکھو تو انہوں نے بنگلے خریدے ھوئے ہیں سینکڑوں ایکڑ زمینیں خریدلی ہیں اور بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں جن کی مالیت 40 لاکھ سے 48 لاکھ بنتی ھے جوکہ حیسکو چیف کے پاس بھی نہیں ھوگی کیا حیسکو چیف ان سے باخبر ھے یہ معلوم نہیں لیکن انہیں علم ھونا چاہئے کہ انکے ناک نیچے کیا ایسا بھی ھورہاہے، یہ ملازمین افسران ادارے کو دیمک کی طرح کھارہے ہیں چاٹ رہے ہیں ،
جس کے باعث ادارہ تباہی کی طرف بڑھ رہاہے روزانہ کی بنیاد پر 12 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ھورہی ھے جبکہ کئی علاقوں میں تین تین دن تک بجلی غائب رہتی ھے ملازمین کرپشن میں مصروف ہیں اور افسران کال اٹھانے کی زحمت تک نہیں کرتے ہیں ،اور صارفین بھی سخت پریشان ہیں کئی صارفین سے ملاقات ھوئی تحقیق کے بعد معلوم ھواکہ حیسکو ملازمین ہی صارفین کو چوری کرنے اور بل ادا کرنے کے بجائے چوری کرنے یعنی فیکس ریٹ پر مجبور کررہے ہیں تاکہ رقم حکومت کے خزانے میں جانے کے بجائے انکے جیبوں میں چلی جائے،
ان ملازمین کو پروٹیکشن آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین CBA
فراہم کررہی یہی وجہ ھے کہ انکے کرپشن کا راستہ روکنا اتنا آسان نہیں ھے،
مینے شالیمار ایکسپریس ٹرین کے دفتر کو واپسی پرایک نظر پھر بھی غور سے دیکھا اور دیکھتا رہا کہ کاش حیسکو صارفین کی قسمت بھی شالیمار ایکسپریس کے مسافروں کی طرح چمک جائے اور حیسکو کی بھی نجکاری کی جائے تاکہ صارفین سکھ کا سانس لے،اور پھر کرپٹ مافیا کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیاجائے تاکہ آئندہ کوئی اور ملازم اس طرح ادارے کو تباہ کرنے سے باز رہے، میں یہی تمنا دل میں لیئے کینٹ ریلوے اسٹیشن کے روڈ پر شالیمار ایکسپریس کے دفتر کو دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا ،
حیسکو کی نجکاری تحریر لالہ مرزاخان
- BY girdopesh
- جولائی 14, 2026
- 0 Comments

