لاڑکانہ (گردو پیش)
ماہرینِ آبپاشی، منتخب عوامی نمائندوں، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور آبادگاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ سکھر بیراج کے دائیں کنارے کے نہروں کے تکنیکی مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں تاکہ کاشتکاروں اور مقامی آبادی کو معاشی تباہی سے بچایا جا سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ آبپاشی سندھ کی جانب سے لاڑکانہ یونیورسٹی میں دادو کینال، رائس کینال اور نارتھ ویسٹ کینال کی فزیبلٹی اسٹڈی کے حوالے سے منعقدہ اسٹیک ہولڈرز ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ ورکشاپ سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ (SWAT) کے تحت منعقد کی گئی۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر خیر محمد شیخ نے کہا کہ سکھر بیراج کے دائیں کنارے کی نہریں وقت گزرنے کے ساتھ بوسیدہ ہو چکی ہیں اور آبادی میں اضافے کے باعث ان پر دباؤ بھی بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی پانی اٹھانے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیرپور اور لاڑکانہ کو ملانے والی موری کے باعث سیلابی پانی کا نکاس مؤثر انداز میں نہیں ہو پاتا، جس سے لاڑکانہ کے مختلف علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نہروں کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نہری پانی کی فراہمی آخری سرے تک یقینی بنائی جا سکے۔
لاڑکانہ کے میئر انور علی لوہر نے کہا کہ پانی زندگی کی بنیاد ہے اور اس کے تحفظ اور بہتر استعمال کے لیے ہر مثبت منصوبے کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نہروں کی پانی اٹھانے کی کمزور صلاحیت ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے حل سے نہ صرف آخری سرے کے آبادگاروں کو پانی میسر آئے گا بلکہ زرعی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔ ان کے مطابق لاڑکانہ اور اس کے گردونواح میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے نہروں کی بحالی کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
لاڑکانہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیک محمد شیخ نے کہا کہ آبی وسائل کی بحالی کے منصوبے سندھ کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ایسے منصوبے نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت دیتے ہیں بلکہ مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں بھی بہتری لاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ یونیورسٹی تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔
سواٹ پروجیکٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر جمال منگن نے کہا کہ ایک صدی قبل تعمیر کی گئی یہ نہریں اپنی طبعی عمر مکمل کر چکی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ان میں تکنیکی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگر ان کی بروقت بحالی نہ کی گئی تو نہری پانی آخری سرے تک نہیں پہنچ سکے گا، جس سے زرعی معیشت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی نوعیت کے مسائل نارا کینال سسٹم اور کوٹری بیراج کی نہروں کو بھی درپیش تھے، تاہم جدید ہیڈ ریگولیٹرز اور کراس ریگولیٹرز کی تعمیر کے بعد ان کے بیشتر تکنیکی مسائل حل ہو چکے ہیں اور اب وہ اضافی پانی اٹھانے کی صلاحیت بھی حاصل کر چکی ہیں۔
رائٹ بینک کینالز کے سپرنٹنڈنگ انجینئر نثار لغاری نے بتایا کہ دائیں کنارے کی نہریں مختلف تکنیکی مسائل کا شکار ہیں، جن میں ڈیزائن ڈسچارج کے مطابق پانی نہ اٹھانا، سلٹ کا جمع ہونا، نہری کناروں کا کٹاؤ اور دیگر مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر نہروں کی بندیں اس قدر خستہ حال ہو چکی ہیں کہ ان پر آمدورفت بھی مشکل ہو گئی ہے۔
اس موقع پر سندھ آبادگار بورڈ کے نمائندوں اسحاق مغيري، خالد جتوئی، زوہیب الرحمٰن جبکہ سندھ ہاری آبادگار اتحاد کے نمائندوں حبیب اللہ جروار، آصف مگسی سمیت دیگر آبادگاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا کہ سکھر بیراج کے دائیں کنارے کی نہریں مسلسل نظرانداز ہوتی رہی ہیں، جس کے باعث کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان نہروں کی فوری بحالی عمل میں لائی جائے تاکہ علاقے کو معاشی مشکلات سے نجات دلائی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دائیں کنارے کی نہریں سکھر بیراج سے ہی مطلوبہ مقدار میں پانی حاصل کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہیں جبکہ نہروں میں اس قدر سلٹ جمع ہو جاتی ہے کہ اس کی صفائی محکمہ آبپاشی کو علیحدہ طور پر کروانا پڑتی ہے، جبکہ بڑے اور فعال نہری نظام قدرتی طور پر مٹی کو بہا لے جاتے ہیں اور سلٹ جمع نہیں ہونے دیتے۔
آبادگار نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی تیاری اور عملدرآمد کے دوران کسانوں اور مقامی آبادی کی تجاویز کو اہمیت دی جائے، کیونکہ ماضی میں ان کی مشاورت کے بغیر کیے گئے کئی منصوبے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہروں کے تمام فنی اور تکنیکی مسائل جلد از جلد حل کیے جائیں تاکہ آبادگاروں کو ممکنہ معاشی تباہی سے بچایا جا سکے۔
اس سے قبل نیسپاک کنسلٹنٹ کے انجینئر محمد افضل احمد نے نہروں کے مطالعے اور فزیبلٹی اسٹڈی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے درپیش بنیادی مسائل اور ان کے ممکنہ حل سے شرکاء کو آگاہ کیا،